لشکر طیبہ کمانڈر: غائبانہ نمازِ جنازہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر کی غائبانہ نماز جنازہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ادا کی گئی۔ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ہفتے بھارتی افواج سے ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ لگ بھگ تین برسوں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجتماع تھا جہاں جماعت الدعوۃ کے علاوہ دوسری عسکری تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت اور تقریریں کیں۔ کشمیر میں ہلاک ہونے والے لشکر طیبہ کے کمانڈر ابو حمزہ کی غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سابق سربراہ حافظ محمد سعید کی جماعت الدعوۃ نے کیا۔ نماز جنازہ میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ نماز جماعت الدعوۃ کے رہنما عبدالرحمان مکی پڑھائی اور اس موقع پر خطاب میں کہا کہ تنازعہ کشمیر کا حل صرف جہاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’تحریک آزادی کشمیر ایک مقدس تحریک ہے اور اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کا دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے طرف سے رچائے گئے ڈرامےسے کوئی تعلق ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’جہاد کے نتیجے میں ہم کامیابی کے قریب پہنچے تھے لیکن امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اسلام آباد کی کمزور اور جہاد دشمن پالیسی نے سب پر پانی پھیر دیا‘۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی نئی حکومت کو سختی سے کہا کہ وہ صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کو مضبوط کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر فائر بندی ختم کرنا ہوگی اور لائن آف کنٹرول بھارتی افواج کی طرف سے لگائی جانے والی باڑھ ختم کرنا ہوگی اور ہندوستان سے کشمیر کو چھیننا ہوگا‘۔ جماعت الدعوۃ کے رہنما کا کہنا تھا کہ ابو حمزہ نے اپنی جان دے کر پاکستانی سیاست دانوں، عوام اور دونوں طرف کی کشمیری قیادت کو یہی پیغام دیا ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات قابل قبول نہیں اور کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد جاری رکھا جائے‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جہاد جاری رہے گا اور صرف جہاد کے نتیجے میں ہی کشمیر آزاد ہوسکتاہے۔ ابو حمزہ مظفرآباد کے رہائشی تھے۔ جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ جس جھڑپ میں وہ ہلاک ہوئے اس میں بھارتی فوج کے ایک کرنل بھی ہلاک ہوئے تھے۔
بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے آپریشنل چیف تھے لیکن کالعدم تنظیم اس کی تردید کرتی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اہم کمانڈر تھے۔ جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کا کہنا کہ ابو حمزہ انیس سو چورانوے میں پہلی بار بھارتی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے لائن آف کنڑول عبور کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیرگئے تھے اور گذشتہ ہفتے اپنی ہلاکت سے پہلے وہ گذشتہ چودہ سالوں کے دوران صرف دو مرتبہ قلیل مدت کے لیے اپنے گھر مظفرآباد آئے۔ حکومت پاکستان نے جماعت الدعوۃ کو کڑی نگرانی میں رکھا ہے اور امریکہ نے سن دو ہزار چھ میں جماعت الدعوۃ کو یہ کہہ کر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا کہ یہ لشکر طیبہ کا دوسرا نام ہے۔ سن دو ہزار دو میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد امریکہ نے لشکر طیبہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور پاکستان نے بھی اس پر پابندی لگائی گئی تھی۔ جماعت الدعوۃ کا کہنا ہے کہ ان کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے کمانڈر کے نماز جنازے کا اہتمام اس لیے کیا کیوں کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی افواج کے خلاف جہاد کو جائز تصور کرتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں حافظ سعید:حکم نامہ کے بغیر نظر بند11 October, 2006 | پاکستان لاہور: حافظ سعید کی رہائی کا حکم28 August, 2006 | پاکستان حافظ سعید کی نظر بندی چیلنج16 August, 2006 | پاکستان لشکر طیبہ کے سابق سربراہ نظر بند10 August, 2006 | پاکستان ’جنرل پرویز کااسلام قبول نہیں‘29 April, 2004 | پاکستان ’پاکستان کی پالیسی تبدیل ہو رہی ہے‘ 12 November, 2003 | پاکستان القاعدہ کی تلاش، قبائل کا تعاون 08 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||