BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوستی بس کا اغواء اور بازیابی

فائل فوٹو
بس کو جرگے سے مذاکرات کے بعد چھوڑا گیا (فائل فوٹو)
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں درجنوں مسلح افراد نے پاکستان سے افغانستان جانے والی پاک افغان دوستی بس کو تقریباً چالیس مسافروں سمیت اغواء کرکے اس سےچالیس منٹ تک اپنی تحویل میں رکھا اور بعد میں اسے مذاکرات کی کامیابی کے بعد واپس قبائلی جرگہ کے حوالے کردیا۔

خیبر ایجنسی کے ایک پولٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایاکہ بدھ کی صبح پاکستان سے افغانستا ن جانے والی پاک افغان دوستی مسافر بس پشاور سے جلال آباد روانہ ہوئی اور جونہی خیبر ایجنسی کے سلطان خیل علاقے میں داخل ہوئی تو وہاں پر موجود درجنوں مسلح قبائلیوں نے بس کو روک کر اسے مسافروں سمیت اغواء کرلیا۔

ان کے بقول بس میں سوار زیادہ تر مسافر افغان شہری تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اغواء کار مقامی قبائل تھے جنہوں نے افغانستان میں قید اپنے آٹھ ساتھیوں کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے بقول اغواءکاروں کےساتھ قبائلی جرگہ نے کامیاب مذاکرات کیے اور انہیں انتطامیہ کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے جائز مطالبات افغان حکومت کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔

اہلکار کے مطابق اس یقین دہانی کے بعد قبائل نے بس کو قبائلی جرگہ کے حوالے کیا جس کے بعد وہ افغانستان کے شہر جلال آباد روانہ ہوگئی ہے۔ان کے مطابق قبائلی اغواء کاروں کا دعوی ہے کہ افغانستان میں قید خیبر ایجنسی کے ان آٹھ افراد کو کاروباری رقابت کی بنیاد پرگرفتارکیاگیا ہے۔

واضح رہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پندرہ مارچ دو ہزار چھ کوستائیس برس کے تعطل کے بعد دوبارہ باقاعدہ بس سروس کا آغاز ہوا تھا ۔قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی میں افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر طارق عزیزالدین کے اغواء کے بعد یہ اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔طارق عزیزالدین کو ڈیڑہ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔

خیبر ایجنسی کے طور خم بارڈر پر تین روز قبل بھی افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی افواج کو تیل لے جانے والی آئل ٹینکرز کو مبینہ بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں پچاس آئل ٹینکرز مکمل طور پر تباہ ہوئے تھے جبکہ اس کے نتیجہ میں دو افراد ہلاک اور سو زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
طارق عزیز الدین کی تلاش جاری
13 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد