بلاول کی نوڈیرو میں تعارفی ملاقاتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے آبائی شہر نوڈیرو میں جمعرات کی صبح پارٹی کارکنان اور عام شہریوں سے تعارفی ملاقاتیں کی ہیں۔ علاقے کے عمائدین و پارٹی رہنماؤں نے انہیں روایتی سندھی اجرک کے تحفے اور پھول پیش کیے ۔بلاول بھٹو زرداری جمعرات کی شام سکھر سے کراچی روانہ ہو رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے صبح سات بجے اپنی والدہ بینظیر بھٹو کی قبر پر حاضری دی اور مزار کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو بھیں بلاول کے ساتھ تھیں۔ ان کے حفاظتی انتظامات آصف زرداری کے تین قریبی دوست آغا سراج درانی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ڈاکٹر شفقت سومرو نے سنبھالے ۔ بلاول بھٹو زردرای کی نوڈیرو میں مصروفیات سے میڈیا کو دور رکھا گیا ہے۔ان کی ملاقاتوں کے دوران صرف اخباری فوٹو گرافرز کو تصویریں بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔ سفید شلوار قمیص پہنے بلاول نے نوڈیرو ہاؤس کے ان کمروں میں لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں جہاں ان کی والدہ بینظیر بھٹو لوگوں سے ملتی تھیں۔
دوسری جانب بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو اپنے بچوں بیٹے شہریار اور بیٹی آزادی کے ہمراہ پہلی مرتبہ نوڈیرو پہنچی ہیں۔صنم بھٹو نے اپنی زرعی فارم بھٹو اسٹیٹ کا دورہ کیا اور کسانوں اور مینیجروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ صنم بھٹو نے پہلی مرتبہ اپنی جائداد اور زمینوں کے معاملات کی نگرانی کرنا شروع کی ہے۔انہوں نے چند زمینوں کے پرانے ٹھیکے ختم کر کے نئے لوگوں کو ٹھیکے دیئے ہیں۔بینظیر بھٹو کی زندگی میں انہوں نے کبھی زمین و جائیداد کےمعاملات میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے مرتضی بھٹو اور بیٹی بینظیر بھٹو کے خاندان کے درمیان اختلافات انتخابات سے قبل تب سامنے آئے تھے جب مرتضی بھٹو کی بیواہ غنویٰ بھٹو نے نوڈیرو اور رتوڈیرو میں پیٹرول پمپ اور رائس مل کے مینیجروں پر مالی بےقاعدگی کے الزامات لگائے تھے اور بینظیر کے مقرر کردہ ٹھکیداروں کو کام دینے سے انکار کردیا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ صنم بھٹو زمین و جائیداد کے تمام معاملات طے کرنے کےلیے مرتضی بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو سے ملاقات کریں گی۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری جمعرات کی شام کو پی آئی ای کی ایک پرواز کے ذریعے سکھر سےکراچی کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔ جہاں سے وہ اسلام آباد کی طرف اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق بلاول بھٹو زردرای نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان کرنے پاکستان پہنچے ہیں۔
حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد پیپلزپارٹی کےاندر وزیراعظم کی نامزدگی پر اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ مخدوم امین فہیم اور آصف زرداری کے درمیاں ون ٹو ون ملاقات میں معاملات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی دباؤ کے طور پر لندن سے بلاوایا گیا ہے تاکہ نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان متنازعہ نہ بنے۔ بلاول اکسفورڈ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور انہوں نے اپنی والدہ بینظیر بھٹو کے سوئم کے بعد لندن میں تعلیم شروع کرنے سے قبل کہا تھا کہ میڈیا کو ان کی پرائیویسی کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ابھی وہ سیاست میں سرگرم نہیں ایک طالبعلم ہیں۔ | اسی بارے میں ’وزیر اعظم: بلاول اعلان کریں گے‘19 March, 2008 | پاکستان ’سکیورٹی سے زیادہ پرائیویسی عزیز ہے‘08 January, 2008 | پاکستان وصیت جاری کرنا لازمی نہیں: زرداری31 December, 2007 | پاکستان ’چہرہ بلاول کا تھا مگر جھلک بےنظیر کی‘09 January, 2008 | پاکستان بلاول چیئرمین، الیکشن میں شرکت31 December, 2007 | پاکستان پیپلز پارٹی: انیس سالہ بلاول چیئرمین، الیکشن لڑنے کا اعلان30 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||