BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 January, 2008, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سکیورٹی سے زیادہ پرائیویسی عزیز ہے‘

انیس سالہ بلاول بھٹو زرداری کی یہ پہلی اخباری کارنفرنس تھی
بینظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ فی الوقت انہیں اپنی سکیورٹی سے زیادہ اپنی پرائیویسی کی فکر ہے۔

لندن میں منگل کو ایک پرہجوم اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے پیپلز پارٹی کی طرف سے بطور چئرمین اپنے انتخاب کا دفاع کیا اور کہا کہ ابھی ان کی فوری ترجیح حصولِ تعلیم ہے۔

اس پر ہجوم پریس کانفرنس جس میں واقعتاً تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی خالہ صنم بھٹو اور پارٹی کے رہنما واجد شمس الحسن کے ہمراہ بڑے اعتماد سے اخبارنویسوں کے سوالوں کے جواب دیئے۔

بلاول بھٹو زرداری کو لندن میں برطانوی دفترِ خارجہ میں سوموار کو ایک بریفنگ بھی دی گئی تھی جو پارٹی کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کی ذاتی سکیورٹی کے بارے میں تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے انیس سالہ چئرمین نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے اپنی والدہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم پاکستان بھیجنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پارٹی کے اس مطالبے کو دہرایا کہ یہ تحقیقات اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کی جانی چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ پارٹی اور ان کے خاندان والے سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کے زیر نگرانی ہونے والی تحقیقات شفاف نہیں ہوں گی۔‘

’سکیورٹی سے زیادہ اپنی پرائیویسی کی فکر ہے‘

انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے حکومت سے مناسب سکیورٹی مہیا کرنے کے بارے میں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر بینظیر بھٹو کو مناسب سکیورٹی مہیا کر دی جاتی تو وہ آج زندہ ہوتیں۔

اتنی کم عمری میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے چئرمین بننے کے بارے میں متعدد سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کی ہلاکت کے بعد ایک غیر متوقع صورتِ حال کے نتیجے میں پارٹی نے انہیں چئرمین بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست ان کے خون میں شامل ہے: ’میرا تجربہ کم ہے مگر میں سیکھوں گا اور جب تک ایسا نہیں ہو جاتا، عملی سیاست نہیں کروں گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کزن ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر اور فاطمہ بھٹو دونوں ہی عزیز ہیں البتہ یہ معلوم نہیں کہ دونوں جماعتوں کو یکجا کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کی ہلاکت کے بعد ’ہمارے خیال میں‘ شہادتیں ختم کر دی گئی ہیں۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے کی ان کی کوئی خواہش نہیں تھی بلکہ حالات اس قسم کے پیدا ہو گئے جس کی بنا پر انہیں مجبوراً یہ ذمہ داریاں اٹھانی پڑئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد