’سکیورٹی سے زیادہ پرائیویسی عزیز ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ فی الوقت انہیں اپنی سکیورٹی سے زیادہ اپنی پرائیویسی کی فکر ہے۔ لندن میں منگل کو ایک پرہجوم اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے پیپلز پارٹی کی طرف سے بطور چئرمین اپنے انتخاب کا دفاع کیا اور کہا کہ ابھی ان کی فوری ترجیح حصولِ تعلیم ہے۔ اس پر ہجوم پریس کانفرنس جس میں واقعتاً تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی خالہ صنم بھٹو اور پارٹی کے رہنما واجد شمس الحسن کے ہمراہ بڑے اعتماد سے اخبارنویسوں کے سوالوں کے جواب دیئے۔ بلاول بھٹو زرداری کو لندن میں برطانوی دفترِ خارجہ میں سوموار کو ایک بریفنگ بھی دی گئی تھی جو پارٹی کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کی ذاتی سکیورٹی کے بارے میں تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے انیس سالہ چئرمین نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے اپنی والدہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم پاکستان بھیجنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پارٹی کے اس مطالبے کو دہرایا کہ یہ تحقیقات اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کی جانی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ پارٹی اور ان کے خاندان والے سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کے زیر نگرانی ہونے والی تحقیقات شفاف نہیں ہوں گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے حکومت سے مناسب سکیورٹی مہیا کرنے کے بارے میں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر بینظیر بھٹو کو مناسب سکیورٹی مہیا کر دی جاتی تو وہ آج زندہ ہوتیں۔ اتنی کم عمری میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے چئرمین بننے کے بارے میں متعدد سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کی ہلاکت کے بعد ایک غیر متوقع صورتِ حال کے نتیجے میں پارٹی نے انہیں چئرمین بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست ان کے خون میں شامل ہے: ’میرا تجربہ کم ہے مگر میں سیکھوں گا اور جب تک ایسا نہیں ہو جاتا، عملی سیاست نہیں کروں گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کزن ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر اور فاطمہ بھٹو دونوں ہی عزیز ہیں البتہ یہ معلوم نہیں کہ دونوں جماعتوں کو یکجا کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کی ہلاکت کے بعد ’ہمارے خیال میں‘ شہادتیں ختم کر دی گئی ہیں۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے کی ان کی کوئی خواہش نہیں تھی بلکہ حالات اس قسم کے پیدا ہو گئے جس کی بنا پر انہیں مجبوراً یہ ذمہ داریاں اٹھانی پڑئیں۔ | اسی بارے میں سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم کی مشرف سے ملاقات08 January, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ: ہسپتالوں کا دورہ07 January, 2008 | پاکستان ’پیپلزپارٹی کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے‘06 January, 2008 | پاکستان زرداری کی سکیورٹی کا مطالبہ05 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||