BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 March, 2008, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امین فہیم کی فضل سے ملاقات

مولانا فضل الرحمن
مولانا فضل الرحٰمن نے مزید کہا کہ امین فہیم کے ساتھ سماجی تعلق ہے
پاکستان پیلز پارٹی میں وزیراعظم کی نامزدگی کے معاملے پر اختلافات کے بعد مخدوم امین فہیم نے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کردیے ہیں۔

جمعہ کو مخدوم امین فہیم نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی اور اطلاعات کے مطابق انہوں نے اسفند یار ولی سے ملنے کے لیے بھی رابطہ کیا تاہم انہوں نے مصروفیات کی وجہ سے ملاقات سے معذرت کرلی۔

پارلیمانی لاجز میں مولانا فصل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مخدوم امین فہیم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو توڑنا چاہتا ہوں تو یہ مجھ پر الزام ہے۔‘

جب ان سے اپنے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی سیاست کی بساط بچھی ہوئی ہے اور دیکھیے کیسے چلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا سے ان کی ملاقات سیاسی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کی تھی اور اس کے لیے پارٹی قیادت سے اجازت ضروری نہیں۔ ’یہ دوستانہ ملاقات ہے اس میں کوئی سیاست نہیں، وزارت اعظمٰی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔‘

اس موقع پر جب مولانا فضل الرحمٰن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ وزیراعظم کے لیے مخدوم امین فہیم کی حمایت کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ’مخدوم صاحب کو تو ہم وزیر اعظم سمجھتے رہے ہیں کہ انہوں نے ہی وزیراعظم بننا ہے لیکن کچھ ان کے پارٹی کے اندر کے معاملات ہیں جس پر مجھے بولنے کا حق نہیں۔‘

مولانا فضل الرحٰمن نے مزید کہا کہ امین فہیم کے ساتھ سماجی تعلق ہے اور احترام کا رشتہ برقرار رہے گا اور جہاں تک پیپلز پارٹی کے ساتھ عہد کا تعلق ہے جسے پورا کریں گے۔ ان کے مطابق وزیراعظم بنانے کا حق پیپلز پارٹی کا ہے اور آصف علی زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کے وفد جس میں مخدوم امین فہیم بھی شامل تھے ان کے ساتھ جو بھی بات طے ہوئی تھی وہ اس کے مطابق عمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’خیر سگالی کی جو خواہشات ہیں وہ پیپلز پارٹی کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں کہ ہم پیپلز پارٹی کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ حالات وہ نہیں ہیں کہ جس سے کسی سیاسی جماعت میں تقسیم آجائے اور جس سے سیاسی عمل متاثر ہوجائے۔‘

مخدوم امین فہیم اسفندیار ولی خان سے نہیں مل سکے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان کا کہنا ہے کہ میں اسفند یار ولی کی پیشگی مشروفیات کی وجہ سے ان کو ملاقات سے معذرت کرنی پڑی۔

صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب مخدوم امین فہیم سے کہ اسفند یار ولی نے ان سے ملنے سے کیوں انکار کیا تو انہوں نے کہا کہ کوئی انکار نہیں کیا اصل میں ان سے ملاقات کا وقت طے نہیں ہوپایا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو روز میں مخدوم امین فہیم نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے دو ملاقاتیں کیں۔ بدھ کی شب ملاقات کے بعد انہوں نے اختلافات ختم ہونے کا بیان دیا اور جمعرات کو دن بھر ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے گریز کرتے رہے۔

لیکن جمعہ اور جمعرات کی درمیانی شب آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد انہوں نے خود کو وزیراعظم کا مضبوط امیدوار قرار دے کر ایک بار پھر اختلافات کا تاثر دیا۔ محدوم امین فہیم کا کہنا ہے اگر آصف علی زرداری خود وزیراعظم بنیں تو وہ انہیں نامزد کرنے کو تیار ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے کچھ ’قریبی حلقوں‘ کا کہنا ہے کہ رکن اسمبلی منتخب نہ ہونے کی وجہ سے زرداری خود وزیراعظم نہیں بن سکتے اس لیے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی بہن ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو عارضی طور پر وزیراعظم کے لیے نامزد کردیں۔

امین فہیمامین فہیم کا ’جرم‘
’جو کیا پارٹی قیادت کو اعتماد میں لے کر کیا‘
معاہدہ مری
سیاست دانوں نے کیا سبق حاصل کیا
اسی بارے میں
وزیر اعظم کی اسامیاں
13 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد