شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | انسنانی حقوق کے نگراں وزیر نے تفصیلات حاصل کرنے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت قانون کو ایک خط لکھا ہے |
انسانی حقوق کے نگراں وزیر انصار برنی نے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ گھر میں نظر بند کرنے کے بارے میں وزارت داخلہ اور قانون و انصاف کی وزارت سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انسنانی حقوق کے نگراں وزیر نے اس ضمن میں وزارت داخلہ اور وزارت قانون کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ انصار برنی کا کہنا ہے کہ ان کی متعلقہ وزارتوں کےحکام کے ساتھ جو رابطے ہوئے ہیں ان میں انہیں یہی بتایا گیا ہے کہ افتخار محمد چوہدری گھر میں نظر بند نہیں ہیں بلکہ انہوں نے چیف جسٹس ہاؤس پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ نگراں وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ جب متعلقہ وزارتوں سے اس حوالے سے جواب موصول ہوجائے گا اس کے بعد وہ خود معزول چیف جسٹس کے گھر جائیں گے تاکہ یہ حقیقت معلوم ہوسکے کہ آیا افتخار محمد چوہدری کو اہلِ خانہ سمیت گھر میں نظر بند کیا گیا ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ نگراں وفاقی وزیر کو ایک بھارتی شہری کشمیر سنگھ کی رہائی پر جہاں بین الاقوامی میڈیا میں سراہا جا رہا ہے وہاں پاکستان میں ان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ انہیں جیل میں بھارتی قیدی تو نظر آگیا لیکن انہیں وہ سینکڑوں افراد نظر نہیں آئے جنہیں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں اور جن کی گمشدگی کا نوٹس لینے کی پاداش میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججوں کو برطرف کر دیا گیا۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج جسٹس سردار رضا خان کا جو ججز کالونی میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں کہنا ہے کہ مذکورہ وزیر کو غیر ملکی قیدی نظر آتے ہیں لیکن اعلیٰ عدالتوں کے وہ جج صاحبان نظر نہیں آتے جنہیں تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کے بعد گھروں میں نظر بند کردیا گیا ہے۔ بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہیں جہاں انصاف دینے والوں کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کے بعد صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے انصار برنی کو اس وقت انسانی حقوق کا وزیر بنایا تھا جب ملک میں انسانی حقوق معطل تھے۔ |