BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 March, 2008, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درہ میں خوف و ہراس، کاروبار بند

درہ آدم خیل
جائے وقوعہ سے شناختی کارڈ کی کاپی خودکش حملہ آور کی نہیں: انتظامیہ
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونےوالے خود کش حملے کی تحقیقات کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

کوہاٹ کے ضلعی رابطہ افسر کامران زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ اور پولیٹکل تحصیلدار کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو آئندہ چند روز میں واقعہ کی تفتیش مکمل کرے گی۔


انہوں نے تصدیق کی کہ دھماکے میں چالیس قبائلی مشران ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی کہ خودکش حملہ آور کی شناخت کرلی گئی ہے۔

ضلعی رابطہ افسر نے واضح کیا کہ جائے وقوعہ سے شناختی کارڈ کی ایک کاپی ملی تھی جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ وہ خودکش حملہ آور کی ہے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ شناختی کارڈ کی کاپی ایک زخمی کی جیب سے گری تھی۔

ادھر درہ آدم خیل کی مقامی انتظامیہ نے علاقے میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں تمام کاروباری مراکز کل سے غیر اعلانیہ طورپر بند ہیں اور علاقے میں سخت خوف وہراس اور سوگ کی فضاہے۔

گزشتہ روز کے واقعہ میں جاں بحق ہونے والے دو قبائلی مشران کی نماز جنازہ پیر کی صبح ادا کی گئی جس میں علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جبکہ زیادہ تر ہلاک شدگان کی تدفین اتوار کو ہی کر لی گئی تھی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد علاقے میں انتظامیہ کی طرف سے عوام کے تحفظ کے لئے کوئی خاص انتظام نہیں کیا گیا ہے۔

 مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ تاحال حکومت کی طرف سے ہلاشدگان اور زخمیوں کے لئے کسی قسم کے معاوضے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز بھی درہ آدم خیل کے دورے کے دوران مرکزی سڑک اور جائے وقوعہ کے آس پاس کوئی سکیورٹی اہلکار نظر نہیں آیا تھا۔ صرف بعض پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی اہلکار مورچوں میں دکھائی دیئے جبکہ درہ بازار اور انڈس ہائی وے پر سکیورٹی کا سخت فقدان نظر آیا۔

مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ تاحال حکومت کی طرف سے ہلاک شدگان اور زخمیوں کے لئے کسی قسم کے معاوضے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کی صبح درہ آدم خیل بازار کے قریب کھلے میدان میں ایک قبائلی جرگے پر خودکش حملے میں حکام کے مطابق چالیس افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں درہ آدم خیل کے پانچ قبائل کے مشران بتائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ سوات، باجوڑ اور درہ آدم خیل میں ہونے والا یہ مسلسل تیسرا خودکش حملہ تھا۔ اور ان حملوں میں اسی سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
جنازے پرخودکش حملہ، 35 ہلاک
29 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد