راولپنڈی:جائے حادثہ دھلائی، رپورٹ تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد راولپنڈی کی انتظامیہ کی طرف سے جائے حادثہ کو دھونے کے واقعہ کی تحقیقات کرنے والی تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پنجاب حکومت کو پیش کر دی ہے۔ یہ رپورٹ آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کو پیش کر دی جائے گی۔ اس کمیٹی میں شامل ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب حکومت کو پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں جائے حادثہ کو دھونے کی تمام ذمہ داری سٹی پولیس افسر راولپنڈی ، ڈی آئی جی سعود عزیز پر ڈالی گئی ہے جنہوں نے جائے حادثہ کو دھونے کے احکامات دیے تھے۔ واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے بعد جائے حادثہ کو دھونے کے واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کے لیے پنجاب کے سیکرٹری قانون کی سر براہی میں ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔ لیاقت باغ کے باہر ہونے والے اس سانحہ میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ اس کمیٹی نے پولیس اہلکاروں ، ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے عملے کے بیانات قلمبند کیے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایس پی راول ٹاؤن خرم شہزاد جو لیاقت باغ کے باہر جائے حادثہ پر موجود تھے اور ان کے بیان کے مطابق جب سانحہ رونما ہوا تو اس کے بعد لوگ وہاں پر اکھٹے ہوگئے تھے اور وہ وہاں سے خون آلودہ مٹی لے کر جا رہے تھے جس کی وجہ سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو رہا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے سی سی پی او سعود عزیز کو جو جائے حادثہ پر موجود نہیں تھے، ٹیلی فون کیا اور کہا کہ جائے حادثہ پر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے جس پر سی سی پی او نے حکم دیا کہ جائے حادثہ کو دھو ڈالیں۔ سٹی پولیس افسر راولپنڈی سید سعود عزیز کا بھی یہی کہنا ہے کہ جائے حادثہ کو اس لیے دھویا گیا تھا کہ وہاں پر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا تھا اور لوگ وہاں سے خون اٹھا کر اپنے ہاتھوں اور کپڑوں کو رنگ رہے تھے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس نے جائے حادثہ سے ضروری شواہد اکھٹے کر لیے تھے اور اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے آنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے بھی ان نمونوں پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے عملے نے جو بیانات ریکارڈ کروائے ہیں اس میں یہی کہا گیا ہے کہ انہیں پولیس حکام کی طرف سے یہ حکم ملا تھا کہ جائے حادثہ کو دھو دیں۔ واضح رہے کہ جائے حادثہ کو دھونے کے اقدام کو بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیاچونکہ اس سے جائے حادثہ سے ضروری شواہد ضائع ہوگئے تھے۔ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے بھی اس واقعہ کو راولپنڈی کی انتظامیہ کی طرف سے غلطی قرار دیا تھا تاہم کسی بھی ذمہ دار سرکاری اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ ادھر حکومت نے بےنظیر بھٹو قتل کیس کی پیروی کے سلسلے میں سردار اسحاق کو سرکاری وکیل مقرر کیا ہے جبکہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے اس مقدمے کا چالان ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے پانچ افراد کوگرفتار کیا تھا جنہوں نے عدالت میں اقبالی بیان دیے تھے کہ انہوں نے مبینہ خودکش حملہ آوروں بلال اور اکرام اللہ کو سہولتیں بہم پہنچائی تھیں جس کے بعد انہیں جیل بھجوا دیا گیا تھا ۔ | اسی بارے میں جائےحادثہ کی دھلائی کی تحقیقات14 February, 2008 | پاکستان بینظیر کیس:ملزمان کا ’اقبالی بیان‘13 February, 2008 | پاکستان ’حملے کیلیےقاری سیف کی خدمات‘12 February, 2008 | پاکستان بینظیر قتل: ’اصل سوال یہ ہے‘10 February, 2008 | پاکستان گولی نہیں لگی: برطانوی پولیس08 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||