جائےحادثہ کی دھلائی کی تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کی نگران حکومت نے گزشتہ برس ستائیس دسمبر کو پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد لیاقت باغ کے باہر جائے حادثہ کو فوری طور پر دھونے کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے پنجاب کے سیکرٹری قانون شیخ فاروق احمد کی سربراہی ہیں ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کے دیگر ارکان میں ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب اور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز پنجاب پولیس شامل ہیں۔ یہ ٹیم تین دنوں میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے اس کی رپورٹ حکومت کو دے گی۔ اس ٹیم میں شامل ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کی تفتیش کے سلسلے میں فائر بریگیڈ ، پولیس اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کو طلب کیا جائے گا اور اس واقعہ کے حوالے سے ان کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ راولپنڈی کی انتظامیہ اور پولیس نے لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے آدھے گھنٹے کے بعد جائے حادثہ کو صاف کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہاں سے اہم شواہد ختم ہوگئے تھے اور متعلقہ حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم کسی نے بھی یہ ذمہ داری قبول نہیں کی تھی کہ کس افسر نے جائے حادثہ کو صاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے بھی جائے حادثہ کو فوری طور پر دھونے کو انتظامیہ کی غلطی قرار دیا تھا۔ سٹی پولیس افسر راولپنڈی سید سعود عزیز کے مطابق پولیس نے جائے حادثہ سے چالیس سے زائد شواہد اکھٹے کیے تھے اور اس جگہ کو صاف کرنا اس لیے ضروری تھا کہ لوگ جائے حادثہ سے خون آلودہ مٹی تبرک کے طور پر گھروں میں لے کر جا رہے تھے اور وہاں پر امن وامان کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ | اسی بارے میں بینظیر کیس:ملزمان کا ’اقبالی بیان‘13 February, 2008 | پاکستان ’حملے کیلیےقاری سیف کی خدمات‘12 February, 2008 | پاکستان بینظیر قتل: ’اصل سوال یہ ہے‘10 February, 2008 | پاکستان گولی نہیں لگی: برطانوی پولیس08 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||