بلوچستان: پولنگ سے پہلے دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کی اکیاون صوبائی اسمبلی اور چودہ قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات کے لیے پولنگ آج صبح شروع ہوگئی ہے۔ قلات میں پولنگ شروع ہونے سے پہلے ایک پولنگ سٹیشن کے قریب دھماکہ سنا گیا ہے لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں پولنگ کا سلسلہ خاموشی سے جاری ہے صوبے کے کچھ علاقے جیسے لورالائی، ژوب، چمن، قلہ عبداللہ، اور ڈیرہ مراد جمالی، سبی، گوادر وغیرہ میں کچھ پولنگ سٹیشنز پر لوگوں کی کچھ تعداد موجود ہے لیکن ایسے پولنگ سٹیشنز بھی ہیں جہاں لوگوں کی تعداد انتہائی کم ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ قلات میں آج صبح پولنگ شروع ہونے سے کوئی پچیس منٹ پہلےگرلز کالج کے قریب دھماکہ ہوا ہے جبکہ رات بھر ہوائی فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جاتی رہیں جس وجہ سے علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے بتایا ہے کہ جس تناسب سے ووٹرز آ رہے ہیں یہ ماضی کے انتخابات کے نسبت کافی کم ہے۔ پولنگ سٹیشنز اور شہروں میں پولیس، فرنٹیئر کور، بلوچستان کانسٹبلری اور فوج کو تعینات کیا گیا ہے اور پولنگ سٹیشنز جانے کے لیے ووٹرز کی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز بلوچستان دھماکوں سے گونجتا رہا ۔ کل رات متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفتر پر دھماکہ ہوا جس میں جماعت کے امیدوار سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ آج صرف کوئٹہ میں دھماکوں سے سات افراد سول ہسپتال لائے گئے ہیں۔ کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ نا معلوم افراد نے جائنٹ روڈ پر قائم متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی کے امیدوار عبدالغنی کاسی کے انتخابی دفتر پر دستی بم پھینکا ہے۔ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت عبدالغنی کاسی دفتر میں اپنے حامیوں کے ساتھ موجود تھے۔ چار زخمیوں میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ اس سے پہلے کلی قمبرانی میں بنیادی مرکز صحت پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا ہے جس سے تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایک دھماکہ کلی اسماعیل میں مجوزہ پولنگ سٹیشن کے قریب ہوا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اپنے آپ کو بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے ببیشتر علاقوں میں ہونے والے کچھ دھماکوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے ان میں ڈیرہ اللہ یار میں بجلی کے کھمبے اور کچھ پولنگ سٹیشنز کے قریب دھماکے شامل ہیں۔
بلوچستان کے مختلف شہروں سے کل دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں ان میں قلات، تربت، حب، ڈیرہ اللہ یار، سبی، سوراب، خضدار، پنجگور اور دیگر علاقے شامل ہیں لیکن ان دھماکوں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ڈیرہ اللہ یار، قلات اور سوراب میں مجوزہ پولنگ سٹیشن کو نقصان پہنچا ہے۔ ادھر جعفرآباد اور سوئی کے سرحدی علاقے آر ڈی دو سو اڑتیس میں ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر دعوی کیا ہے کہ آج دن میں فرنٹیئر کور کی تین گاڑیوں پر حملے کیے گئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر صرف ایک حملے کی تصدیق ہو سکی ہے جس میں چار اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔ اس سے پہلے کوہلو میں بجلی کے تین کھمبوں کو جبکہ کوئٹہ کے قریب سریاب اور سپیزنڈ کے مقام پر ایک ریلوے پل اور ریلوے ٹریک کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے۔ کوہلو، آواران اور قلات میں مجوزہ پولنگ سٹیشنز کے سامنے دھماکے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: متعدد دھماکے، کئی ہلاک 04 February, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں دھماکہ ایک شخص ہلاک05 February, 2008 | پاکستان بلوچستان سردی کی لپیٹ میں06 February, 2008 | پاکستان بلوچستان:صحافی قتل،املاک پرحملے09 February, 2008 | پاکستان انتخابی مہم: خضدار میں دھماکہ12 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||