اٹارنی جنرل ملک قیوم کی رائے تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے بھارت کی متنازعہ لیگ انڈین کرکٹ لیگ میں کھیلنے والے کھلاڑیوں پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے پر پابندی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے درست فیصلہ قرار دیا ہے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے پہلے انہیں کھلاڑیوں پر پابندی کو خلاف آئین قرار دیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انہیں اٹارنی جنرل کی تحریری رائے دی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ آئی سی ایل کھیلنے والوں ڈومیسٹک کرکٹ کی پابندی ان کا روزگار سے چھیننے کے مترداف نہیں ہے۔ پی سی بی کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ انہوں تمام مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور آئی سی ایل کے معاہدے کی شق تین اعشاریہ چار کا جائزہ لینے کے بعد اس رائے پر پہنچے ہیں کہ آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ دینا کسی کے ذریعہ معاش کو روکنا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہوں نے یہ رائے اس لیے قائم کی ہے کہ آیی سی ایل کے معاہدے کے مطابق کھلاڑی کی آئی سی ایل کے ساتھ معاہدے کو تمام دوسرے معاہدوں سے فوقیت حاصل ہے۔’میرے خیال میں کرکٹ بورڈ کو انہیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ دینے کی آزادی دی جا سکتی ہے۔‘ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں پر پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی جو پابندی عائد کی تھی اس کی کرکٹ بورڈ کی گورنگ باڈی نے25 جنوری کو کراچی میں ہونے والے اجلاس میں توثیق کی تھی جس کے بعد پی سی بی کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے اٹارنی جنرل سے ملاقات کی اورانہیں اس معاملے پر رائے دینے کی درخواست کی۔ | اسی بارے میں ’آئی سی ایل کھیلنے پر سزا غلط‘26 January, 2008 | کھیل آئی سی ایل کھیلنے والوں پر پابندی25 December, 2007 | کھیل ’پابندی کے خلاف مقدمہ کرینگے‘25 December, 2007 | کھیل تحریری معاہدہ موجود ہے: قیوم17 August, 2007 | پاکستان ’یوسف کیخلاف کارروائی کرینگے‘20 October, 2007 | پاکستان کھلاڑیوں کی انضمام سے مشاورت02 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||