’ابو اللیث اللیبی کا اپنا گروپ تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے سرکردہ کمانڈر ابواللیث اللیبی کی ہلاکت کے بارے میں حکومت پاکستان تو تاحال کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں کہ وہ کب، کہاں اور کیسے مارے گئے۔ لیکن ان کے ایک ساتھی جاوید ابراہیم پراچہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ابواللیث اللیبی کی ملاقات ایک لیبیا کے سفارتکار سے کروائی تھی۔ ’ورلڈ جہاد رابطہ کونسل‘ اور ’ورلڈ پریزنرز کمیشن‘ نامی تنظیموں کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابواللیث اللیبی کا ابو فراج اللیبی سے اختلاف رائے تھا اور دونوں کے گروہ مختلف تھے۔ ’ابو فراج اللیبی اسامہ بن لادن کی براہ راست کمان میں تھے جبکہ ابو اللیث اللبی کا تیس سے چالیس لیبیائی شدت پسندوں (جنہیں وہ مجاہدیں کہتے رہے) پر مشتمل اپنا گروپ ہے جس کے وہ کمانڈر تھے۔‘ پراچہ کے مطابق ابو اللیث اللیبی کا القائدہ سے تعلق تو نہیں تھا لیکن ضرورت پڑنے پر محاذ جنگ پر وہ ایک ہی پرچم تلے لڑتے۔ ان کے بقول ازبک شدت پسندوں سے بھی ابو اللیث کے قریبی تعلقات تھے۔
’تقریباً سوا سال پہلے پشاور میں لیبیا کے سفارتکار حسین کحیل آئے تھے اور میری معرفت ان کی ابو اللیث اللبی سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہاں ابو اللیث اللبی ریڈ کراس کی گاڑی میں پہنچے تھے۔‘ جاوید ابراہیم پراچہ کہتے ہیں کہ دو سال پہلے تک ابواللیث اللیبی پاکستان میں آزادانہ طور پر گھومتے پھرتے تھے اور وہ ان سے کئی بار مل بھی چکے ہیں۔ ’بنوں اور پشاور کی ہسپتالوں میں زیر علاج مجاہدین کی دیکھ بھال کے لیے ابو اللیث اللیبی آیا کرتے تھے اور وہ انتہائی نیک اور متقی نوجوان تھے۔‘ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی قیاص آرائیوں کے مطابق ابواللیث اللیبی کو دو روز قبل شمالی وزیرستان میں بغیر پائلٹ کے امریکی طیارے کے ذریعے فائر کیے جانے والے میزائل میں مارا گیا تھا۔ لیکن اس بارے میں جب فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تاحال ان کے پاس مصدقہ اطلاع نہیں اور وہ قیاص آرائیوں پر مبنی خبروں پر تبصرہ کرنا نہیں چاہتے۔
واضح رہے کہ جاوید ابراہیم پراچہ پاکستان میں برسوں سے ملکی اور خاص کر کے غیر ملکی شدت پسندوں کی دیکھ بھال کرتے رہے ہیں۔ وہ اٹھارہ فروری کے مجوزہ انتخابات میں کوہاٹ سے مسلم لیگ نواز کی ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑ رہے ہیں۔ اس حلقے سے وہ انیس سو ستانوے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار افتخار گیلانی کو شکست بھی دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ جاوید ابراہیم پراچہ کم از کم دو بار امریکی تحقیقاتی ایجنسی ’ایف بی آئی، کے پاس زیر تفتیش رہ چکے ہیں۔ انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد پاکستان میں گرفتار ہونے والے دنیا کے مختلف ممالک کے اٹھائیس سو کے قریب مبینہ شدت پسندوں کو رہائی دلوا کر اپنے اپنے ممالک بھجوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||