BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 February, 2008, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاہان: گن شپ کاپٹروں کی پروازیں

بلوچ مزاحمت کار (فائل فوٹو)
علاقے میں ہیلی کاپٹر پروازوں سے مری قبیلے کے لوگوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے
بلوچستان کےعلاقہ کاہان کے قریب تیسرے روز بھی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری ہیں جس میں بھمبھور کا علاقہ کشیدگی کا محور تھا جہاں ایک جھڑپ میں مسلح مزاحمت کار ہلاک اور فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔

بلوچستان کےعلاقہ کاہان کےقریب تیسرے روز بھی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری رہیں جس میں بھمبھور کا علاقہ کشیدگی کا محور تھا جہاں ایک جھڑپ میں مسلح مزاحمت کار ہلاک اور فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق کاہان کے قریبی علاقوں سورے کور، ہسپوڑ اور تراتانی میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور علاقے میں ہیلی کاپٹر پروازوں سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے۔

بھمبھور کے علاقے میں مسلح مزاحمت کاروں اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے مابین جھڑپ ہوئی ہے جس میں اطلاعات کےمطابق ایک مزاحمت کار ہلاک اور ایف سی کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔

سرکاری سطح پر ایف سی اہلکار کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ہیلی کاپٹر پروازوں سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے۔

کوہلو کےضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

علی گل مری کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ تین روز سے جھڑپوں اور بمباری کی اطلاعات ہیں جس سے مری قبیلے کے لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل سلیم نواز نے کہا تھا کہ کاہان اور ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز کی معمول کی کارروائی جاری ہے لیکن اس میں کوئی بمباری وغیرہ نہیں ہو رہی اور نہ ہی کوئی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ گزشتہ دو روز میں کاہان کے قریبی علاقوں اور ڈیرہ بگٹی کے علاقہ زین کوہ سے شدید بمباری اور جھڑپوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس میں کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے کہا تھا کہ زین کوہ میں جھڑپ کے نتیجے میں دو درجن سے زیادہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور چھ مسلح مزاحمت کار ہلاک ہو گئے تھے۔

کاہان کے قریبی علاقے ہسپوڑ سے مقامی لوگوں نے بتایا تھا کہ گزشتہ روز ایک مکان پر گولہ گرنے سے تین بچوں اور ایک خاتون سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے لیکن سرکاری سطح پر ان دعووں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یاد رہے دسمبر دو ہزار پانچ میں بھی جب مبینہ فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی اس وقت بھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی جا رہی تھی لیکن بعد میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ کارروائی فراری کیمپوں کے خلاف کی جا رہی ہے جہاں مسلح مزاحمت کار موجود ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد