برطرف جج تاریخ لکھ رہے ہیں: نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عدلیہ کی آزادی، برطرف ہونے والے ججوں کی بحالی اور وکلاء تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے چھ فروری کو’یوم عہد‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان نواز شریف نے جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کا کہنا تھا کہ چھ فروری کو ’یوم عہد‘ کے سلسلے میں لاہور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج صاحبان اور وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں کو خصوصی طور پرشرکت کی دعوت دی جائے گی۔ نواز شریف نے کہا کہ ’چھ فروری کو پاکستان بھر سے مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار لاہور میں جمع ہوکر یہ حلف اٹھائیں گے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ برطرف شدہ ججوں کی بحالی اور تین نومبر کو جنرل مشرف کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی توثیق کا راستہ روکیں گے۔‘ نواز شریف نے آدھ گھنٹے تک لکھی ہوئی تقریر پڑھی جس میں انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف سے مذاکرات کرنے یا ہاتھ ملانے کو وہ ایک مجرمانہ فعل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے وکلاء تحریک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء نے وہ کام کرکے دکھایا جو تمام سیاسی پارٹیاں اکھٹے ہوکر بھی نہیں کر سکیں۔ان کے بقول ’وکلاء نے آمریت کی دیوار میں شگاف پیدا کر دیا ہے اور جو جج صاحبان کل تک فیصلے لکھتے رہے آج وہ تاریخ لکھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) انہیں ہرصورت میں اپنے عہدوں پر بحال کرنے کی جدوجہد کرے گی۔‘
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں بتیس سال فوج نے حکمرانی کی ہے جبکہ باقی اٹھائیس سال بتیس وزیر اعظموں کے حصہ میں آئے ہیں۔ ان کی تقریر زیادہ تر انتخابات سے بائیکاٹ نہ کرنے کے حوالے سے وضاحتیں دینے اور جنرل مشرف کی ذات اور پالیسیوں پر تنقید کرنے پر مشتمل تھی۔ تقریب کے بعد نواز شریف نے جھگڑا ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا صدر مشرف سے ڈیل کرنے کے حوالے سے ان پر کسی مغربی ملک کا کوئی دباؤ ہے تو میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا’ ڈیل کے معاملے پر مجھ پر نہ کبھی کوئی دباؤ ڈالا گیا ہے اور نہ ہی میں نے کوئی دباؤ قبول کیا ہے۔ ہماری ڈیل تو پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کے ساتھ ہے پرویز مشرف سےکس بات کی ڈیل۔‘ ابھی پریس کانفرنس جاری تھی کہ صحافیوں نے یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا کہ ان کے بعض ساتھیوں کو باہر روک کر پریس کانفرنس میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے جونہی میاں نواز شریف عمارت میں داخل ہوئے تو وکلاء نے ’گو مشرف گو، عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہے گی‘ کے نعرے لگا کر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
نواز شریف کی پشاور آمد کے موقع پر شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ہائی کورٹ کی طرف جانے والی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا جبکہ عمارت میں داخل ہونے والے دو مقامات پر جامہ تلاشی لی جارہی تھی۔ہائی کورٹ کی عمارت کی چھت پر بھی پولیس کے اہلکار چوکس کھڑے تھے۔ سکیورٹی کے لحاظ سے نواز شریف کو سابق وزیراعظم کا پروٹوکول دیا گیا تھا۔ہائی کورٹ آمد کے موقع پر ان کے قافلے کو یہ کہہ کر آدھ گھنٹے تک روک دیا گیا کہ پولیس نے دعوی کیا کہ انہوں نے سوری پل پر ایک ٹائم بم برآمد کیا ہے لہذا راستے کو کلیئر کیا جا رہا ہے۔اس پل سے کچھ ہی دیر بعد نواز شریف کے قافلے کو گزرنا تھا۔ وکلاء سے خطاب کے بعد وہ پشاور ہائی کورٹ کے برطرف چیف جسٹس طارق پرویز اور دیگر جج صاحبان سے ملنے ان کی رہائش گئے جہاں پر انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ لینے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ واضح رہے کہ نواز شریف نے آٹھ سال کے بعد پشاور کا دورہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں الیکشن کمشنر بھگوان داس: نواز16 January, 2008 | پاکستان مشرف تمام مسائل کی جڑ ہیں: نواز07 January, 2008 | پاکستان انتخابات کا بائیکاٹ: نواز شریف27 December, 2007 | پاکستان ججوں کی بحالی ضروری: نواز23 December, 2007 | پاکستان آٹھ جنوری ریفرنڈم کا دن: نواز شریف10 December, 2007 | پاکستان نواز: ججوں کی بحالی اشد ضروری23 December, 2007 | پاکستان نواز حلف نہ لینے والے ججوں کے گھر27 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||