BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ مئی: وکلاء کوحتمی نوٹس

بارہ مئی
بارہ مئی کو کراچی میں معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی آمد کے موقع پر پورا شہر شدید تشدد کی لپیٹ میں آگیا تھااور چالیس سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔
سندھ ہائی کورٹ کراچی نے بارہ مئی 2007ء کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے متعلق آئینی درخواستوں کی پیروی نہ کرنے پر وکلاء کو حتمی نوٹس جاری کردیا ہے اور سماعت پچیس جنوری تک ملتوی کردی ہے جس کے بعد ان درخواستوں کو بغیر کسی فیصلے کے نمٹائے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

یہ آئینی درخواستیں ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران کی جانب سے داخل کی گئی تھیں جو بارہ مئی کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی میزبان تھے اور اس روز مسلح گروہوں نے ان پر بھی حملے کئے تھے اور کئی ایک کو اغواء بھی کرلیا تھا۔

تاہم تین نومبر کو پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے بیشتر ججوں کو برطرف کردیا تھا اور اس کے بعد جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا وکلاء ان کے سامنے احتجاجاً پیش نہیں ہورہے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے دوسرے مقدمات کی طرح اس معاملے کی سماعت کے موقع پر بھی وکلاء سندھ ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہورہے ہیں۔

تین نومبر سے پہلے ہائی کورٹ کا سات رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کررہا تھا جس نے دو سینئر قانون دان قاضی فیض عیسی اور خالد انور کو اس معاملے کے سماعت کے لئے عدالتی معاون مقرر کیا تھا تاہم ان دونوں وکلاء نے تین نومبر کے بعد انہوں نے بھی احتجاجاً عدالت کی معاونت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

منگل کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افضل سومرو کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو درخواست گذاروں کی جانب سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔ البتہ سرکاری وکلاء پیش ہوئے۔

عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے کہا کہ ہائی کورٹ نے بارہ مئی کے واقعات کا ازخود نوٹس لیا تھا حالانکہ ہائی کورٹ کے پاس سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی کسی معاملے کی تحقیقات عدالت کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جب سکھوں کو قتل کیا گیا تھا تو وہاں کی عدالت نے بھی اس پر یہی حکم دیا تھا کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بارہ مئی کو پولیس کی جانب سے کئے گئے حفاظتی انتظامات نہ کئے جاتے تو زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوتیں۔

عدالت نے درخواست گذاروں کو حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ آئندہ سماعت کے موقع پر پیش ہوں اور سماعت پچیس جنوری تک ملتوی کردی۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ پیشی پر وکلاء تنظیموں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو عدالت اس پر یکطرفہ فیصلہ جاری کرسکتی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ12 مئی فسادات
’وفاقی و صوبائی حکومتیں جواب دیں‘
سندھ ہائی کورٹ12 مئی فسادات
نجی چینلز نے فوٹیج عدالت کو دیدی
اسی بارے میں
12 مئی: حکومت کی جواب طلبی
20 August, 2007 | پاکستان
بارہ مئی: وفاق کے حلف نامے
20 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد