300 کلومیٹرطویل ریل ٹریک فروخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی نگران حکومت نے شمالی بلوچستان میں تقریباً تین سو کلومیٹر طویل ژوب اور بوستان کے درمیان ریلوے ٹریک کو کباڑ قرار دیتے ہوئے اسے تیس کروڑ روپے میں فروخت کر دیا ہے۔ پاکستان ریلویز کی سرکاری ویب سائٹ پر آج بھی سال دو ہزار دس تک کے ترقیاتی منصوبوں میں صوبہ سرحد اور بلوچستان کے درمیان براہ راست رابطوں کو بڑھانے کے لیے کوئٹہ، بوستان، ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان ریلوے لائن کے لیے چھ ارب روپے مختص کرنے کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ سرکاری بیان کےمطابق بوستان ژوب نیرو گیج ٹریک کو کباڑ قرار دیتے ہوئے اسے کسی نجی کمپنی کو تیس کروڑ روپے میں فروخت کر دیا ہے۔ایک سرکاری اہلکار کے مطابق یہ ٹریک گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں امن عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ سے بند پڑا تھا۔ تاہم کئی لوگ اسے آدھا سچ مانتے ہیں۔ان کے مطابق اس ٹریک کو قابل استعمال رکھنے کی صلاحیت اور سرمایے کی کمی بھی دیگر وجوہات میں شامل تھیں۔ بیان کے مطابق ٹریک نگران وزیر ریلوے منصور طارق کی ہدایت پر فروخت کیا گیا ہے۔ نگران وزیر ریلوے منصور طارق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تاثر سے انکار کیا کہ اس سودے سے بین الصوبائی رابطے کے منصوبے پر کوئی اثر پڑے گا۔ ان کا اصرار تھا کہ یہ مختلف پٹری ہے۔’یہ سودہ چار برس پہلے ہوچکا تھا تاہم ریلوے اور کمپنی کے درمیان کوئی تنازعہ چل رہا تھا جو وزارت میں آنے کے بعد میں نے جرگے کے ذریعے حل کر دیا ہے۔‘ لیکن تین سو کلومیٹر تیس کروڑ میں چند لوگوں کو بہت کم نرخ معلوم ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب ژوب ریلوے سٹیشن کا دورہ کیا تھا تو وہاں چادریں اور دیواریں لگا کر اسے نجی مکان میں تبدیل کیا ہوا تھا۔سٹیشن سے کسی سٹیشن ماسٹر کی سیٹی کی نہیں بلکہ برتن دھلنے اور بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ریلوے کی ورکشاپ میں زنگ آلود پرزے سرکاری عدم توجیہہ کی غمازی کر رہے تھے۔ اس حکومتی فیصلے سے ژوب کی مقامی آبادی کو بھی شدید صدمہ پہنچا ہے۔ان کا مطالبہ رہا ہے کہ اس ٹریک کو بحال کرکے انہیں آمد و رفت کی متبادل سہولتیں مہیا کی جائیں۔ایک زمانے میں جب کوئٹہ ژوب سڑک تعمیر نہیں ہوئی تھی تو یہ ٹریک اہم ذریعے آمد و رفت تھا۔ کلی اپوزئی کے ایک مقامی شخص نے بتایا تھا کہ اس سٹیشن کے لیے گاؤں کے مشران نے انیس سو انتیس میں سو ایکڑ اراضی حکومت کو مفت فراہم کی تھی۔ ’ہم آج تک اس سٹیشن کی حفاظت کر رہے ہیں کہ اس کی بحالی سے کاروبار بہتر ہوں گے لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی۔‘ اس ٹریک کو عام لوگوں کے علاوہ فوجی اور سرکاری اہلکار بھی بڑی تعداد میں استعمال کرتے تھے۔ اپنے بچپن میں اس ٹریک پر اپنے خاندان کے ساتھ سفر کرنے والے ژوب کے رہائشی الیاس خان سے بھی ملاقات ہوئی۔انہوں نےایک دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے کہا ج جب یہ ٹرین سٹیم انجن کے ذریعے چلتی تھی بتاتے ہوئے کہنا تھا ’ہم نے سٹیشن ماسٹر سے ٹکٹ کا تقاضہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے بغیر ہی بیٹھ جاؤ لیکن جب ہم نے اصرار کیا تو وہ گھر گیا اور ٹکٹ لے کر آیا۔‘ اس سے شاید اس ٹریک کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یعنی مالی مشکلات بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ٹریک بھی کئی مقامات سے چرا لیا گیا ہے۔ اور اس سٹیشن کی حفاظت کے لیے مامور دو اہلکار بھی کہیں اور منتقل کر دیئےگئے تھے۔ کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان ریل گاڑی کے چلنے سے دونوں صوبوں کے درمیان تجارت اور آمد و رفت میں اضافے کی توقع بھی اب دم توڑ چکی ہے۔انڈس ہائی وے کا منصوبہ بھی کئی برسوں سے سُست روی کا شکار ہے۔ سرحد اور بلوچستان کے پختون قوم پرست اسی لیےالزام لگاتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو دونوں صوبوں کے پختونوں کے قریب آنے سے خوف ہے اسی لیے اس قسم کے منصوبے کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ کل تک حکومت اس ٹریک کو صوبہ سرحد تک بڑھانے کی بات کر رہی تھی، لیکن اس ٹریک کے فروخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ توسیع تو درکنار انگریزوں کی چھوڑے ہوئے ٹریک کی حفاظت بھی نہیں کی جا سکی۔ | اسی بارے میں نجکاری کمیشن کو عدالتی نوٹس06 April, 2007 | پاکستان نجکاری ملتوی، ہڑتال ختم04 June, 2005 | پاکستان کوئٹہ میں دھماکے، ایک ہلاک01 February, 2005 | پاکستان ریلوے لائنوں پر تین دھماکے23 March, 2005 | پاکستان ایک مہینہ، تیس کروڑ کا نقصان29 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||