گرینیڈ پھٹنے سے چار بچے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں گرینیڈ پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے چار بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔ تحصیل تونسہ پولیس کے انسپکٹر ضیاءالحق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہینڈ گرینیڈ چشمہ رائٹ بینک کینال کے قریب راستے میں پڑا تھا۔ بچوں نے گرینیڈ سے کھیلنا شروع کر دیا جس سے اسکی پن نکل گئی اور دھماکے میں بچے ہلاک ہوگئے۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں یہ دھماکہ اٹامک انرجی کمیشن کے پلانٹ کی طرف جانے والی سڑک پر ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے اٹامک انرجی کا پلانٹ دھماکے کی جگہ سے کوئی دس کلومیٹر دور ہے۔ پولیس نے اس واقعہ میں تخریب کاروں کے ملوث ہونےکو مسترد کرتے ہوئے اسے اتفاقی واقعہ قرار دیا ہے۔ ہلاک شدہ بچوں میں سات سالہ صفدر،گیارہ سالہ خضر حیات، دس سالہ جعفر اور تینوں بھائیوں کا چودہ سالہ ماموں یوسف شامل ہیں۔ یہ بچے تونسہ کےقریب بستی خیانی کے رہائشی تھے۔ مقامی پولیس کےمطابق بچوں کے لواحقین نے پوسٹ مارٹم سے انکار کردیا اور بچوں کی میتیں لےگئے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈیرہ غازی خان ضلع کی سرحدیں بلوچستان اور صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہیں۔گزشتہ دو سالوں کے دوران ڈیرہ غازی خان میں دہشتگردی کی بیس سے زیادہ کارروائیاں ہوئی ہیں جن میں گیس پائپ لائنوں اور ریل کی پٹڑی پر حملے بھی شامل ہیں۔ مقامی صحافیوں کے مطابق ڈیرہ غازی خان پولیس نےگزشتہ ہفتے دو افراد کو گرفتار کیا تھا اور انہیں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی یا بی ایل اے کے ارکان بتایا تھا۔ دوسری جانب تونسہ پولیس کےمطابق بم ڈسپوزل ٹیم کو جائے وقوعہ کے معائنے کے دوران ہینڈ گرینیڈ کی پن مل چکی ہے جسےنکانے کےبعد گرنیڈ کا دھماکہ ہوا۔ اس سلسلے میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ | اسی بارے میں لیاری فائرنگ میں دو بچے ہلاک15 November, 2007 | پاکستان جوہری اسلحہ، کتنا محفوظ؟02 December, 2007 | پاکستان پاکستان سے امریکی ماہرین کو خدشات 21 August, 2007 | پاکستان تابکاری کا خطرہ نہیں ہے: حکومت17 May, 2006 | پاکستان ڈی جی خان آگ: تابکاری کا خدشہ16 May, 2006 | پاکستان تاریکی میں ڈوبا ’ایٹمی‘ علاقہ27 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||