BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 December, 2007, 18:49 GMT 23:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہاٹ: لاشیں آبائی علاقوں میں روانہ

کوہاٹ چھاؤنی (فائل فوٹو)
پیر کے واقعہ کے بعد چھاؤنی کے علاقے میں فوجی حکام نے کئی مورچے بھی بنا لیے ہیں
پاکستان کے صوبہ سرحد کے جنوبی شہر کوہاٹ میں پیر کے روز خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کی لاشیں ان کی آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئیں ہیں جبکہ دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم بھی مقرر کی گئی ہے۔

کوہاٹ سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کو فوجی چھاؤنی کوہاٹ میں خودکش حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دس فوجیوں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئی تھیں ۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق سی ایم ایچ کوہاٹ میں زیر علاج دو فوجیوں نے رات گئے دم توڑنے کے بعد ان کی لاشیں منگل کی صبح ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔ پیر کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کا تعلق سندھ ، پنجاب اور صوبہ سرحد سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کی تحقیقات کےلیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم بھی مقرر کی گئی ہے جس نے ابتدائی تحقیقات کےلیے حملہ آور کے جسم کے کچھ حصے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پشاور بھیج دیئے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس واقعہ کے بعد فوجی چھاؤنی کی حدود میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کینٹ کے تمام کونوں پر موجود فوجی اہلکار چھاؤنی میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں کو مشینوں کے ذریعے سے چیک کرتے ہیں جبکہ لوگوں کو بھی روک کر ان کی فرداً فرداً جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق پیر کے واقعہ کے بعد چھاؤنی کے علاقے میں فوجی حکام نے کئی مورچے بھی بنا لیے ہیں جبکہ ہر چوک میں بکتر بندگاڑیوں کے علاوہ فوجی جوان بڑی تعداد میں گشت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

یاد رہے کے پیر کو کوہاٹ چھاؤنی میں ٹو بٹالین کے فوجیوں کو ایک مبینہ خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں بارہ فوجی جوان ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ کوہاٹ چھاؤنی میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران یہ دوسرا خودکش حملہ تھا۔

ادھر چار دن قبل نوشہرہ چھاؤنی میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد وہاں بھی حکام کے مطابق سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور کینٹ کو آنے جانے والے تمام راستوں پر پولیس کی نفری بڑھادی گئی ہے۔

فوج کا بیج’ایمرجنسی اور فوج‘
نو میں سے سات خودکش حملوں میں فوج نشانہ
 لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعودفوج اور سیاست
’جنرل کیانی فوج کو سیاست سے الگ رکھیں‘
’تاریخی چیلنج‘
پاکستانی فوج مخالفین کی زد میں
فائل فوٹوحملوں کا سال
36 خودکش حملوں میں 315 سے زائد ہلاک
پاکستان پولیسحفاظتی اقدامات
خود کش حملوں کا خطرہ، تھانوں کے گیٹ بند
اسی بارے میں
کامرہ: سکول بس پر خودکش حملہ
10 December, 2007 | پاکستان
باجوڑ ایجنسی: چوکی پر حملہ
08 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد