BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 December, 2007, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قربانی کی گائے پچیس لاکھ میں

جانوروں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں
عید الضحٰی کے موقع پر قربانی کے لیے کراچی کے ایک کاروباری نے پچیس لاکھ روپے میں گائے خریدی ہے۔

ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کے جانوروں کی منڈی شہر سے باہر سپر ہائی وے کے دونوں جانب لگائی گئی ہے جہاں جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔

بازار میں ایک بیوپاری نے بکروں کی جوڑی کی قیمت دس لاکھ روپےرکھی ہے لیکن اسے ابھی خریدار کا انتظار ہے۔

پچیس لاکھ روپے کی گائے، جس کا نام بادشاہ رکھا گیا تھا، شہر کے ایک نامور کاروباری شخص نے خریدی ہے
بیوپاری محمد عادل

محمد عادل نے ملیر میں واقع اپنے فارم ہاؤس میں ڈیڑھ سو گائے پال رکھی تھیں اور اب انہیں فروخت کرنے کے لیے منڈی میں لائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پچیس لاکھ روپے کی گائے، جس کا نام بادشاہ رکھا گیا تھا، شہر کے ایک نامور کاروباری شخص نے خریدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کے پاس اسی ہزار سے دس لاکھ روپے تک کے جانور موجود ہیں۔

ایک خریدار محمد طاہر نے بتایا کہ وہ پچھلے چار گھنٹوں سے مارکیٹ میں گھوم رہے ہیں لیکن اس سال جانوروں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جانور پچھلے سال پچیس سے تیس ہزار میں دستیاب تھا، ویسے جانور کی قیمت اس سال اسی ہزار سے سوا لاکھ طلب کی جارہی ہے۔

دوسری جانب ایسے خریدار بھی ہیں جو مہنگے سے مہنگا جانور خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق قربانی کے جانور کی قیمت نہیں بلکہ ان کی خوبصورتی کو دیکھنا چاہیے۔

کئی لوگ کہتے ہیں کہ اس قیمت میں وہ بکرے کیوں لیں، گاڑی کیوں نہ لے لیں، ہم نے یہ بکرے بچوں کی طرح پالے ہیں اور اگر لوگ ان کی تعریف نہیں کرسکتے تو ایسی بات بھی نہ کہیں جس سے ہمیں دکھ ہو
بیوپاری نور اللہ

بکروں کے ایک بیوپاری نوراللہ مہر نے کہا کہ ان کے بکروں کی جوڑی دو دن میں آدھا کلو شہد کھاتی ہے۔ ایک بکرے کا وزن دو سو تیرہ کلو اور دوسرے کا دو سو چار کلو ہے۔ بکروں کا نام بادل اور ببلو ہیں اور ان کی قیمت دس لاکھ روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ تعریف کرنے کے بجائے دل توڑ دیتے ہیں۔’ کئی لوگ کہتے ہیں کہ اس قیمت میں وہ بکرے کیوں لیں، گاڑی کیوں نہ لے لیں، ہم نے یہ بکرے بچوں کی طرح پالے ہیں اور اگر لوگ ان کی تعریف نہیں کرسکتے تو ایسی بات بھی نہ کہیں جس سے ہمیں دکھ ہو۔‘

کراچی میں ٹریفک کے رش اور مناسب جگہ نہ ہونے کے باعث گزشتہ کئی سالوں سے قربانی کے جانوروں کی منڈی شہر سے باہر سپر ہائی وے کے دونوں جانب لگائی جا رہی ہے اور ملک بھر سے گائے، بکرے اور اونٹ فروخت کرنے کے لئے آنے والوں کو اس منڈی میں جگہ دی جاتی ہے۔

قربانی کا جانورعیدِقربان
پاکستان میں عیدِ قربان کی تصویری جھلکیاں
انڈونیشیاعید کے اجتماعات
افریقہ تا فلپائن عید کے اجتماعات کی جھلکیاں
بکرا بکرا کامیڈی
اُسے نہ بکرا، نہ دنُبہ، نہ کوئی اونٹ ملا
اسی بارے میں
بکروں کے لیے قطاریں
08 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد