قربانی کی گائے پچیس لاکھ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عید الضحٰی کے موقع پر قربانی کے لیے کراچی کے ایک کاروباری نے پچیس لاکھ روپے میں گائے خریدی ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کے جانوروں کی منڈی شہر سے باہر سپر ہائی وے کے دونوں جانب لگائی گئی ہے جہاں جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ بازار میں ایک بیوپاری نے بکروں کی جوڑی کی قیمت دس لاکھ روپےرکھی ہے لیکن اسے ابھی خریدار کا انتظار ہے۔ محمد عادل نے ملیر میں واقع اپنے فارم ہاؤس میں ڈیڑھ سو گائے پال رکھی تھیں اور اب انہیں فروخت کرنے کے لیے منڈی میں لائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پچیس لاکھ روپے کی گائے، جس کا نام بادشاہ رکھا گیا تھا، شہر کے ایک نامور کاروباری شخص نے خریدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کے پاس اسی ہزار سے دس لاکھ روپے تک کے جانور موجود ہیں۔ ایک خریدار محمد طاہر نے بتایا کہ وہ پچھلے چار گھنٹوں سے مارکیٹ میں گھوم رہے ہیں لیکن اس سال جانوروں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جانور پچھلے سال پچیس سے تیس ہزار میں دستیاب تھا، ویسے جانور کی قیمت اس سال اسی ہزار سے سوا لاکھ طلب کی جارہی ہے۔ دوسری جانب ایسے خریدار بھی ہیں جو مہنگے سے مہنگا جانور خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق قربانی کے جانور کی قیمت نہیں بلکہ ان کی خوبصورتی کو دیکھنا چاہیے۔ بکروں کے ایک بیوپاری نوراللہ مہر نے کہا کہ ان کے بکروں کی جوڑی دو دن میں آدھا کلو شہد کھاتی ہے۔ ایک بکرے کا وزن دو سو تیرہ کلو اور دوسرے کا دو سو چار کلو ہے۔ بکروں کا نام بادل اور ببلو ہیں اور ان کی قیمت دس لاکھ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ تعریف کرنے کے بجائے دل توڑ دیتے ہیں۔’ کئی لوگ کہتے ہیں کہ اس قیمت میں وہ بکرے کیوں لیں، گاڑی کیوں نہ لے لیں، ہم نے یہ بکرے بچوں کی طرح پالے ہیں اور اگر لوگ ان کی تعریف نہیں کرسکتے تو ایسی بات بھی نہ کہیں جس سے ہمیں دکھ ہو۔‘ کراچی میں ٹریفک کے رش اور مناسب جگہ نہ ہونے کے باعث گزشتہ کئی سالوں سے قربانی کے جانوروں کی منڈی شہر سے باہر سپر ہائی وے کے دونوں جانب لگائی جا رہی ہے اور ملک بھر سے گائے، بکرے اور اونٹ فروخت کرنے کے لئے آنے والوں کو اس منڈی میں جگہ دی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں ’پانچ ارب روپے کی کھالیں فروخت‘24 January, 2005 | پاکستان بکروں کے لیے قطاریں08 January, 2006 | پاکستان عیدالاضحیٰ پر کھالوں کی سیاست 10 January, 2006 | پاکستان بڑے جانوروں کی قربانی کا رجحان03 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||