’پانچ ارب روپے کی کھالیں فروخت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس بار بقر عید پر جانوروں کی مہنگائی کے باوجود گزشتہ برسوں کی نسبت زیادہ تعداد میں قربانی کی گئی۔ لاہور میں ہائیڈ اور سکِن مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور لاہور چیمبر آف کامرس کے نائب صدر شیخ محمد ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں اس سال بقر عید پرگزشتہ سال کے مقابلہ میں تقریباً دس فیصد زیادہ جانوروں کی قربانی کی گئی۔ شیخ ارشد نے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق بقرعید کے تین دنوں میں لاہور میں کھالوں کی خرید و فروخت سے معلوم ہوتا ہے کہ پچیس ہزار گائے اور بیل قربانی کے لیے ذبح کیے گئے جبکہ تقریباً تین لاکھ بکروں اور مینڈھوں کی قربانی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بقرعید پر تقریباً ایک ہزار اونٹ بھی ذبح کیے گئے۔ اس سال قربانی کے جانوروں کی قیمت گزشتہ سال کی نسبت بیس سے پچیس فیصد زیادہ تھی اور عام خیال تھا کہ شاید قربان کیے جانے والے جانوروں کی تعداد کم رہی۔ لاہور ضلعی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صفائی کے عملے کی بنائی گئی خصوصی ٹیموں نے عید کے دنوں میں لاہور شہر سے پانچ لاکھ اوجڑیاں اٹھا کر ٹھکانے لگائیں جس سے قربانی کیے گئے جانوروں کی تعداد کا تخمینہ اور زیادہ ہوجاتا ہے۔ چمڑہ منڈی میں لوگوں کے اندازوں کے مطابق اس بقرعید پر پانچ ارب روپے مالیت کی کھالوں کی خرید وفروخت ہوئی جس کا بڑا حصہ سیاسی اور مذہبی تنظیموں اور رفاہ عامہ کے بڑے اداروں جیسے ایدھی فاؤنڈیشن اور شوکت خانم ہسپتال کو گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||