BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 January, 2007, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بڑے جانوروں کی قربانی کا رجحان

اونٹ
اس عید پر پنجاب کے شہروں میں بیل اور اونٹ بڑی تعداد میں ذبح کیے گئے
اس بار بقر عید پر پنجاب کے بڑے شہروں میں بڑے جانوروں کی قربانی کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
شہروں میں کھالیں بھی زیادہ تر فلاحی اور سیاسی تنظیموں کو عطیہ میں دی گئی ہیں۔

آل پاکستان سکن اینڈ ہائیڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق اس بار بقر عید پر لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں گائے، بیل اور اونٹ بڑی تعداد میں ذبح کیے گئے۔

ایسوسی ایشن کے صدر شیخ ارشد کا کہنا ہے کہ کراچی اور سرحد میں پہلے سے یہ رجحان تھا لیکن پنجاب کے شہروں میں چند سال پہلے تک زیادہ تر چھوٹے جانوروں کی قربانی کی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس بار کھالوں کے ذریعے جمع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں تقریباً ستر ہزار بڑے جانور ذبح کیے گئے جبکہ راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی پچیس پچیس ہزار بڑے جانور ذبح کیے گئے۔

سکن ایسوسی ایشن کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے اونٹ کی قربانی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور اندازہ ہے کہ اس بار ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ اونٹوں کی قربانی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ اونٹ بلوچستان میں ذبح کیے جاتے ہیں جہاں بقر عید پر بیس ہزار اونٹوں کی قربانی کی گئی ہے اور لاہور میں بھی تقریباً پانچ ہزار اونٹ ذبح کیے گئے۔

 ملک میں سب سے زیادہ اونٹ تو بلوچستان میں ذبح کیے جاتے ہیں جہاں بقر عید پر بیس ہزار اونٹوں کی قربانی کی گئی ہے جبکہ لاہور میں بھی گزشتہ دو دنوں میں تقریباً پانچ ہزار اونٹ ذبح کیے گئے

اونٹ قیمت کے اعتبار سے گائے اور بیل سے مہنگا ہے لیکن لوگ اس کی قربانی کو پیغمبر اسلام کی سنت سمجھتے ہوئے زیادہ ثواب کا باعث سمجھتے ہیں۔

سکن ایسوسی ایشن کے مطابق اونٹ کی افزائیش نسل اندرون سندھ اور بلوچستان میں کی جاتی ہے اور اس کی قربانی کے رواج سے ملک کے ان پسماندہ علاقوں کی مویشی پالنے کی معیشت کو فروغ مل رہا ہے۔

سکن ایسوسی ایشن کا تخمینہ ہے کہ اس بار ملک بھر میں تقریباً ستر لاکھ جانوروں کی قربانی کی گئی جن میں بارہ سے پندرہ لاکھ بڑے جانور اور پچھپن لاکھ سے زیادہ چھوٹے جانور شامل ہیں۔

ایک اندازہ کے مطابق ملک میں عید الضحیٰ پر ذبح کیے جانے والے جانوروں کی کل مالیت اسی سے نوے ارب روپے کے درمیان ہے۔

اس سال بڑے جانور (گائے، بیل، بھینس وغیرہ) کی کھال کی اوسط قیمت پندرہ سو روپے فی کھال جبکہ چھوٹے جانوروں کی کھالوں کی اوسط قیمت ڈھائی سو روپے فی کھال تھی۔ اس سال تقریباً ساڑھے تین ارب سے چار ارب روپے مالیت کی کھالیں چمڑا بازار میں خریدی گئیں۔

سکن اینڈ ہائیڈ ایسوسی کے صدر شیخ ارشد کا کہنا ہے کہ لاہور میں پہلے زیادہ تر کھالیں غربا، ملازمین اور مساجد کو دیے جاتے تھے لیکن اب اس رجحان بہت کمی ائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پچاس فیصد سے زیادہ کھالیں رفاحی اداروں اور مذہبی گروہوں جیسے شوکت خانم ہسپتال، جماعت الدعوۃ، جماعت اسلامی، دعوت اسلامی وغیرہ کو دی گئی ہیں اور لاہور میں مسجدوں کو کھالیں دینے کا رجحان تقریباً ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں تاجروں نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کھالیں جماعت اسلامی کے توسط سے خریدی ہیں جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم کے توسط سے سب سے زیادہ کھالیں خریدی گئیں۔

سکن ایسوسی ایشن کے مطابق بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والا تبلیغی گروپ دعوت اسلامی بھی بڑے شہروں میں کھالیں حاصل کرنے والی بڑی تنظیم ہے۔

جانوروں کی کھالوں سے بنے چمڑے کی مصنوعات کی فروخت پاکستان کی بڑی برآمدات میں شامل ہے جس کی کل مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔ بقر عید کا تہوار چمڑے کی صنعت کو بڑی مقدار میں سستا خام مال مہیا کرتا ہے۔

قربانی کا جانورعیدِقربان
پاکستان میں عیدِ قربان کی تصویری جھلکیاں
اسی بارے میں
بکرا کامیڈی کا سِیزن شروع
29 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد