BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عید پر بھارت سے بکروں کی درآمد

قربانی کے جانور
قربانی کےجانوروں کی مانگ میں اضافے کے باعث بھارت سے بکرے منگوائے گئے ہیں
پاکستان میں ویب سائٹس کے ذریعے بقر عید کے جانوروں کی خرید و فروخت تو شروع ہوئی تھی لیکن اب پہلی بار بقر عید پر بھارت سے بھی قربانی کے بکرے خریدے جا رہے ہیں۔

بدھ کو بھارت سے ایک سو سے بیس بکرے واہگہ سرحد کے ذریعے لاہور پہنچے۔ اس سے پہلے بھارت سے قربانی کے لیے صرف گائیں منگوائی جاتی تھیں۔

بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ عیدِ قربان پر جانوروں کی طلب میں جس تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اس کے مدِنظر اس بار انہوں نے بھارت سے بھی بکرے منگوانے کا تجربہ کیا ہے۔

بھارت سے گوشت کی درآمد کے بارے میں بات کرتے ہوئے بکروں کے بیوپاری محمد حلیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتہ میں بھارت سے بکروں کی تین کھیپیں لاہور پہنچ چکی ہیں۔

بیوپاری کا کہنا ہے کہ چونکہ بھارت سے آنے والے بکروں کو قرنطینہ میں تین چار دن رکھنا ضروری ہوتا ہے اس لیے اس کم تعداد میں بکرے منگوائے گئے ہیں۔ تاہم ان بکروں کے کانوں میں معمول کے مطابق سوراخ نہیں کیے گئے کیونکہ اس طرح کرنے سے وہ قربانی کے لیے موزوں نہیں رہتے۔

اس سال جانوروں کی قیمتیں ہر سال کی طرح گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہیں۔ شہر میں بچھڑا اوسطاً بیس سے بائیس ہزار روپے، گائے پچیس سے چالیس ہزار روپے اور عام بکرا دس ہزار سے بیس ہزار روپے تک فروخت ہورہا ہے۔

تاہم کچھ لوگ عام جانوروں سے کہیں زیادہ قیمتی جانور قربانی کے لیے خریدتے ہیں۔ قیمتی بکرا ستر سے اسی ہزار روپے میں جبکہ قیمتی بیل ایک سے تین لاکھ روپے تک میں فروخت ہورہا ہے۔

شوقین لوگ زیادہ تر قیمتی بیل خریدتے ہیں جنہیں بیوپاریوں کے بقول خاص طور سے قربانی کے لیے پالا جاتا ہے اور ملائی کھلائی جاتی ہے۔ ان بیلوں کا گوشت ایک ہزار روپے فی کلو گرام میں پڑتا ہے۔

بقر عید آنےمیں دو دن رہ گئے ہیں اور لاہور میں قربانی کے جانوروں کی موبائل منڈیوں کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک منڈیاں بھی کام کررہی ہیں۔

بکر منڈیاں شہر سے دور ہونے کے باعث جانوروں کےمالکان نے گاڑیوں پر بکرے اور گائیں رکھ کر شہر کی مختلف سڑکوں کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔

دوسری طرف، کراچی کی ایک ویب سائٹ قربانی آن لائن اور اسلام آباد کی ویب سائٹ ای بکرا ڈاٹ کام کے ذریعے بھی قربانی کے جانور فروخت ہورہے ہیں۔

گزشتہ برس بقر عید کے موقع پر دس لاکھ بڑے اور پچاس لاکھ چھوٹے جانور ذبح کیے گئے تھے

ای بکرا ڈاٹ کام میں بکروں اور بھیڑوں کی تصویریں دکھائی جانے کے ساتھ ان کے بارے میں دیگر تفصیلات اور ان کی قیمت بتائی جاتی ہے۔ یہ سائٹ خریدار کو اس کے گھر پر بکرا پہنچانے کا یقین دلاتی ہے۔

ان ویب سائٹس کے ذریعے زیادہ تر پاکستان سے باہر رہنے والے جانور خرید کر قربانی کرواتے ہیں کیونکہ یورپ یا امریکہ کے ملکوں میں جانوروں کی قربانی کرنا دشوار ہوتا ہے۔

آل پاکستان سکن اینڈ ہائڈز ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر شیخ ارشد کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس بقر عید کے موقع پر دس لاکھ بڑے اور پچاس لاکھ چھوٹے جانور ذبح کیے گئے تھے جن کی مالیت تقریبًا ستر ارب سے اسی ارب روپے تھی اور ان سے حاصل ہونے والی کھالوں کی مالیت تین ارب روپے تھی۔

پاکستان میں بقرعید کے تین روز میں جتنی تعداد میں جانور ذبح کیے جاتے ہیں ان کی تعداد پورے سال میں ذبح کیے جانے والے تمام جانوروں کی تعداد کا بیس فیصد ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
پاکستان: عید کل آج اور کل
24 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد