عید کارڈ سرکاری، تصویر مشرف کی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مواصلات کے وفاقی وزیر محمد شمیم صدیقی نے عید الفظر کے موقع پر اپنے دوستوں، احباب اور بعض صحافیوں کو عید کی مبارک دینے کے لیے ایک ایسا کارڈ بھیجا ہے جس پر صدر جنرل پرویز مشرف کی متنازعہ کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کا اقتباس اور ان کی تصویر شائع ہے۔ عید کارڈ پر حکومت پاکستان کی مہر بھی لگی ہوئی ہے اور اسے سرکاری خرچ پر بنوایا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ جب صدر جنرل پرویز مشرف سرکاری خرچ پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو خطاب کرنے امریکہ گئے تو انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب جاری کی۔ اس کتاب کے اجراء کی تقریب اور اس کی تشہیر کے لیے سرکاری خزانے سے خرچ کے سوال پر صدر پر ملک کے اندر خاصی تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اب اس کتاب کی تشہیر عید کارڈز کے ذریعے سرکاری خرچ پر کرنے کا یہ نیا طریقہ کار سامنے آیا ہے۔ عید کارڈ کا معاملہ اس لحاظ سے بھی دلچسپ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے بعض اراکین نے اپنے خود ساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین کی تصاویر والے عید کارڈ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو بھیجے ہیں لیکن ان کی جماعت کے وزیر نے اپنے عید کارڈ کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف کا انتخاب کیا ہے۔
‘With determination, persistence and honest patriotic zeal, God willing, we will become a dynamic, progressive and moderate Islamic state’. اس سے پہلے جب درسی کتابوں میں صدر جنرل مشرف کی رنگین تصاویر اور پیغام شائع کیا گیا تھا تو اس پر حزب مخالف نے سخت تنقید کی تھی جس کے بعد وہ تصاویر ہٹادی گئی تھیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی کتاب کو مارکیٹ میں آئے ہوئے ایک ماہ ہونے کو ہے اور اس بارے میں تعریف اور تنقید کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ صدر خود کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے یہ کتاب دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر کرنے کے لیئے لکھی ہے اور اس سے ہونے والی آمدن سے وہ ’مشرف ٹرسٹ‘ نامی غیر سرکاری تنظیم چلائیں گے جو غریب طلبا کو تکنیکی تعلیم دے گی۔
صدر مشرف کی کتاب کی نوک پلک سابق فوجی صدر ایوب خان کی سوانح عمری لکھنے والے الطاف گوہر کے صابزادے ہمایوں گوہر نے درست کی ہے۔ دو روز قبل ’ان دی لائن آف فائر، کا اردو ترجمہ ‘ ’سب سے پہلے پاکستان‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ چار سو گیارہ صفحات پرمشتمل اس کتاب کی قیمت چار سو پچانوے روپے ہے۔ اس میں القائدہ کے گرفتار کردہ شدت پسندوں کے عوض امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے، سے ملنے والے کروڑوں ڈالرز کا ذکر نکال دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ انگریزی ایڈیشن میں صدر نے کہا تھا کہ القائدہ کے 689 کے شدت پسند گرفتار کیے گئے جن میں سے 369 امریکہ کے حوالے کیئے گئے جس سے کروڑوں ڈالر کمائے گئے۔ ان کے مطابق جو کہتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کچھ نہیں کیا وہ جاکر سی آئی اے سے پوچھیں کہ انہوں نے کتنی رقم انعام کے طور پر پاکستان کو دی ہے۔ واضح رہے کہ صدر یہ بھی اقرار کر چکے ہیں کہ جن گرفتار شدہ شدت پسندوں کے سر کی قیمت مقرر تھی وہ رقم پاکستان کے سرکاری خزانے میں نہیں بلکہ فوج کے کھاتے میں جمع کرائی گئی ہے۔ | اسی بارے میں مشرف بک: ’سب سے پہلے پاکستان‘22 October, 2006 | پاکستان ’مشرف کادعویٰ مضحکہ خیز‘02 October, 2006 | پاکستان ’کتاب کے لیئے ملک کی تحقیرکی‘29 September, 2006 | پاکستان ’ کتاب سکیورٹی رسک ہے‘27 September, 2006 | پاکستان مشرف کتاب، فروخت ذرا کم کم 25 September, 2006 | پاکستان ’نواز مشرف معاہدے کی کوئی تفصیل نہیں‘26 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||