BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 January, 2006, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساٹھ لاکھ جانوروں کی قربانی

جانوروں کی قربانی پچھلے سال کے برابر رہی
پاکستان میں اس سال بقرعید پر ساٹھ لاکھ بڑے اور چھوٹے جانور ذبح کیے گئے جن کی مالیت کا اندازہ ستر ارب سے اسی ارب روپے ہے اور ان سے حاصل ہونے والی کھالوں کی مالیت تین ارب روپے ہے۔

آل پاکستان سکن اینڈ ہائڈز ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر شیخ ارشد کے مطابق اس سال بقر عید پر لوگوں نے تقریبا اتنی تعداد میں جانوروں کی قربانی دی جتنی تعداد گزشتہ سال تھی۔ ابتدائی طور پر اندازہ لگایا جارہا تھا کہ جانوروں کے پچھلے سال کے مقابلہ میں بیس سے پچیس فیصد مہنگا ہونے کی وجہ سے قربانی میں کمی ہوسکتی ہے۔

شیخ ارشد کے مطابق تمام ملک سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں کراچی، لاہور اور قصور کے تین بڑی چمڑا منڈیوں میں جمع ہوتی ہیں جس سے قربانی کے جانوروں کی تعداد کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کھالوں سے جمع ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق اس سال لاہور میں تقریبا چالیس ہزار گائے اور اونٹ جبکہ تقریبا چار لاکھ بھیڑوں اور بکروں کی قربانی کی گئی۔

ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ پورے ملک سے جمع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں دس لاکھ بڑے جانور ذبح کیے گئے جن میں زیادہ تر گائے اور تھوڑی تعداد میں اونٹ، بیل اور بھینسیں بھی شامل ہیں کیونکہ صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ میں بھینسیں بھی ذبح کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں پچاس لاکھ بکرے اور بھیڑیں ذبح کی گئیں۔

شیخ ارشد کے مطابق بقرعید کے تین روز میں جتنی تعداد میں جانور ذبح کیے جاتے ہیں ان کی تعداد پورے سال میں ذبح کیے جانے والے تمام جانوروں کی تعداد کا بیس فیصد ہے یعنی اسی فیصد جانور باقی پورے سال میں ذبح کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قربانی کے جانوروں کی کھالیں جو تنظیمیں جمع کرتی ہیں وہ فورا تاجروں کو فروخت کردیتی ہیں کیونکہ کھالیں زیادہ دیر رکھنے سے گل سڑ کر خراب ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال پورے ملک سے بقرعید پر بڑے جانوروں کی جو کھالیں جمع ہوئی ہیں ان کی مالیت تقریبا ڈیڑھ ارب روپے ہے اور اسی طرح چھوٹے جانوروں کی کھالوں کی کل مالیت بھی تقریبا اتنی ہے۔

چمڑہ اور اس کی مصنوعات پاکستان کی تیسری بڑی برآمدی شے ہے اور کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں ان کھالوں سے جوتے، لیدر جیکٹس، بیلٹس، بیگز، صنعتی اشیا، اسٹیشنری وغیرہ بن کر صرف بقرعید کی کھالوں کی مالیت تین ارب سے بڑھ کر سات آٹھ ارب تک پہنچ جائےگی۔

بقرعید کا تہوار چمڑے کی صنعت کے علاوہ ملک کی زرعی معیشت کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے سے پیسہ جانوروں کی خرید و فروخت کی وجہ سے بڑی مقدار میں شہروں اور زیادہ آمدن والے طبقوں سے دیہاتوں اور کم آمدن والے طبقوں کو منتقل ہوتا ہے۔ اس موقع پر گوشت کی تقسیم اور کھالوں کی فلاحی اداروں کو فراہمی سے بھی کم آمدن والے طبقوں کو فائدہ ہوتاہے۔

اسی بارے میں
عید: زلزلہ زدگان بھولنے لگے
11 January, 2006 | پاکستان
قربانی آن لائن
20 January, 2005 | پاکستان
بالاکوٹ کی سوگوار عید
04 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد