BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بکرا کامیڈی کا سِیزن شروع

بکرا
’گائیوں سے زیادہ تو بکرے ذبح ہوتے ہیں اس عید پر، اس لیے بکرا عید زیادہ مناسب ہے۔۔۔‘
پاکستان میں ’بکرا کامیڈی‘ کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ یہ سیزن اسلامی تقویم کے حساب سے ہر برس انہیں دِنوں میں منایا جاتا ہے، جب ٹیلی ویژن کے سبھی چینل بکرے کی تِھیم پر کم از کم تین تین کھیل تیار کر لیتے ہیں تاکہ عید کی تینوں چھُٹیاں بھُگت جائیں۔

پی ٹی وی چونکہ اس میدان میں چالیس سالہ تجربے کی مار کھائے ہوئے ہے اس لیے وہ عموماً صِرف ایک نئے کھیل پر اِکتفاء کرتا ہے جو کہ عید کے پہلے روز دکھا دیا جاتا ہے۔ باقی ایّام کے لیے وہ اپنی زنبیل میں سے پرانا مال نکالتا ہے اور جھاڑ پونچھ کر نئے مال کے پیچھے رکھ دیتا ہے۔

ویسے نئے اور پرانے کی پہچان صرف ریکارڈنگ کی تاریخ سے ہوتی ہے، موضوع یا واقعات میں ذرّہ برابر ترمیم بھی بِدعت کی ذیل میں آتی ہے۔

اِن ڈراموں میں کہانی بڑی عید سے کچھ دِن پہلے شروع ہوتی ہے جب گھر کے سبھی بچّے بکرا خریدنے کی ضِد کرتے ہیں لیکن والد صاحب بوجہء غربت بکرا خریدنے سے گریزاں ہیں جبکہ والدہ صاحبہ کو بچّوں کی ضِد کے ساتھ ساتھ محلّے والوں کے طعنوں کا خوف بھی دامن گیر ہے اور وہ ہمسایوں میں ناک اونچی رکھنے کےلیے ہر قیمت پر گھر میں بکرا لانا چاہتی ہیں۔

بعض ذہین ڈرامہ نویس عید سے چند روز پہلے گھر پہ کچھ ایسے مہمانوں کا حملہ بھی کروا دیتے ہیں جو نہ صرف عید گزارنے آئے ہیں بلکہ لڑکی کا رشتہ بھی چاہتے ہیں۔ چنانچہ ان کی خاطر تواضع کے لیے بکرے کی خریداری انتہائی لازمی ہوجاتی ہے۔

 شیخ صاحب اتنے کنجوس ہیں کہ آج تک قربانی کے قریب نہیں پھٹکے۔ بس صحن کی دیوار پر کو ئلے اور چاک سے بکرے کی ایک تصویر بنا رکھی ہے۔ ہر عید پر گردن والی اینٹ نکال کر باہر رکھ دیتے ہیں
ایک سٹیج ایکٹر
زیور یا برتن بیچ کر، دفتر سے ایڈوانس لےکر یا کہیں سے قرض پکڑ کے ایک عدد بکرا تو خرید لیا جاتا ہے لیکن بکرے نے بھی شاید ایسی تنگ دستی کا ماحول پہلے کہیں نہیں دیکھا ہوتا اس لیے وہ رات بھر باں باں کر کے محلّے بھر کو جگائے رکھتا ہے اور رشتہ دیکھنے کےلیے آئے ہوئے مہمان بھی نالاں ہوجاتے ہیں۔

بعض ڈراموں میں یہ بکرا عید سے ایک رات پہلے چوری بھی ہوجاتا ہے اور چند موقعوں پر یہ قریبی تھانے میں پایا جاتا ہے جہاں دو پولیس والے یہ بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ سری پائے کس کے حصّے میں آئیں گے اور گردے کلیجی کا حق دار کون ہے۔

بعض اوقات قربانی سے گریز کا سبب غربت نہیں بلکہ لالچ اور کنجوسی ہوتا ہے چنانچہ شیخ صاحب چند ہزار کی بچت کےلیے بکرا کاٹنے سے تو باز رہتے ہیں البتہ ہمسایوں نے قربانی کا جو گوشت بھیجا ہے اسے پکانے کی بجائے کسی اور ہمسائے کے گھر روانہ کردیتے ہیں تاکہ قربانی کا تاثر دیا جاسکے۔ زیادہ کامیڈی پیدا کرنی ہو تو وہ ہمسائے بھی گوشت خود نہیں پکاتے بلکہ ساتھ والوں کو بھیج دیتے ہیں۔

ایک ڈرامے میں تو ایسا بھی ہوا کہ شیخ صاحب کے گھر سے بکرے کی جو ران روانہ ہوئی تھی وہ سارے محلّے کا چکّر لگا کر پھِر سے شیخ صاحب کے گھر پہنچ گئی۔

کمرشل سٹیج کے لوگ البتہ ہر عید ہر ایک آدھ نئی جُگت پیش کر دیتے ہیں۔ ان نابغہء روزگار سٹیج ایکٹروں کا ایک جُملہ تو ہمیں بھی نہیں بھولے گا۔ کہنے لگے ’شیخ صاحب اتنے کنجوس ہیں کہ آج تک قربانی کے قریب نہیں پھٹکے۔ بس صحن کی دیوار پر کو ئلے اور چاک سے بکرے کی ایک تصویر بنا رکھی ہے۔ ہر عید پر گردن والی اینٹ نکال کر باہر رکھ دیتے ہیں‘۔

چند روز ہوئے ایک رائٹر دوست سے ملاقات ہوئی۔ بغل میں کچھ دبائے بڑی تیزی سے کہیں جارہے تھے۔ کہنے لگے ریڈیو سٹیشن پہنچنا ہے۔ انھیں عید کےلیے کھیل چاہیئے۔

یاد رہے کہ ہمارے یہ دوست سرکاری میڈیا کےلیے امرت دھارے کا مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے نوجوانی کے زمانے میں جب ریڈیو اور ٹی وی کےلیے لکھنا شروع کیا تو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی، چنانچہ اِن سے بڑی عید کے موقع پر ایک ڈرامہ لکھوایا گیا جس میں مشرقی پاکستان کے ہاتھ سے نکل جانے کو ایک قربانی قرار دیا گیا اور عوام کو یقین دلایا گیا کہ اس قربانی کے صِلے میں وہ عِند اللہ ماجوُر ہونگے۔

ضیاء الحق کے دور میں ہمارے یہ دوست نماز، حج، زکواۃ اور قربانی کے علاوہ جہاد کے موضوع پر بھی ڈرامے لکھتے رہے اور یہ سلسلہ صدر مشرف کے زمانے تک جاری رہا البتہ اب کچھ دنوں سے جہاد کے موضوع ہر ان کا قلم خاصاسُست ہوگیا ہے۔ قربانی کی نئی نئی تاویلات البتہ اِن کے مکالموں میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ آئندہ الیکشن کے بعد ان کا قلم کیا رُخ اختیار کرتا ہے، اس کا انحصار اقتدار میں آنے والی پارٹی کی ترجیحات پر ہے۔

رّدِ جہاد میں تو بہت کچھ لکھا گیا
تردیدِ حج میں کوئی رسالہ رقم کریں

۔۔۔ تو خیر ہمارے یہ ہمہ صفت موصوف دوست بڑی تیزی سے ریڈیو سٹیشن کی طرف گامزن تھے۔ ہم نے کہا بھائی جان آج کل ریڈیو پاکستان کو کون سنتا ہے، آپ کیوں وہاں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں؟

جواب ملا ’ریڈیو ڈرامے اسی لیے تو لکھتا ہوں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔۔۔ اور مجھے چیک بھی مِل جاتا ہے‘۔

مزید کریدنے پر ہمارے ہمہ جہت مصّنف نے بتایا کہ جو ڈرامہ ریڈیو پہ ہِٹ ہو جاتا ہے اسی پر کیمرے کو دائیں بائیں موڑنے کی کچھ ہدایات لکھ کر پاکستان ٹیلی ویژن کو بھیج دیتا ہوں، ریڈیو پاکستان کے سینسر سے چھن کر نکلا ہوا کھیل ٹیلی ویژن والے بِلا خوف و خطر ہاتھ کے ہاتھ خریدلیتے ہیں، بے فکر ہو کر ریکارڈ کرتے ہیں اور آنکھیں بند کر کے نشر کر دیتے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے لیے تین دہائیوں تک ڈرامے لکھنے والے اس لکھاری دوست نے انکشاف کیا کہ وہ اپنا ایک ڈرامہ ٹیلی ویژن پر چار بار اور ریڈیو پر سات بار فروخت کر چُکے ہیں۔

چھوٹی عید، بڑی عید، شبرات، چودہ اگست، 23 مارچ اور 25 دسمبر کےلیے اُن کے پاس ہمہ وقت سٹاک موجود رہتا ہے اور صرف ایک فون کال پر وہ ڈرامہ لے کر ریڈیو یا ٹی وی والوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ کسی زمانے میں وہ چھ ستمبر کے بھی سپیشلِسٹ سمجھے جاتے تھے لیکن آجکل اس صِنف کی مانگ نہیں ہے چنانچہ انہوں نے اپنے چھ ستمبر والے تمام ڈراموں میں تھوڑی تھوڑی ترمیم کرکے انہیں چودہ اگست، 23 مارچ اور 25 دسمبر کے قابل بنادیا ہے۔

اور یہ بتا کر تو ہمارے مصنف دوست نے ہمیں حیران ہی کردیا کہ چھ ستمبر کا ایک ایسا ڈرامہ جو کسی زُمرے میں فِٹ نہیں ہورہا تھا اسے محض چند جملوں کی تبدیلی سے انہوں نے عید الضحٰے کے ڈرامے میں تبدیل کردیا ہے۔ ہمیں انگشت بدنداں دیکھ کر دوست نے وضاحت کی ’بھئی اُدھر بھی قربانی کا مضمون تھا اور اِدھر بھی وہی موضوع ہے۔ قربانی اپنی جان کی ہو یا بکرے کی، بہرحال قربانی ہوتی ہے‘۔

اسکے بعد انھوں نے بغل سے ڈرامے کا وہ مسودہ نکالا جس پر چھ ستمبر کی سرخی کو کاٹ کر لکھا ہوا تھا ’بکرا عید‘۔

ہم نے گزارش کی کہ یار اس کے ہجّے تو ٹھیک کر لو یہ بقر عید ہے یعنی عیدِ بقر، بقر تو سمجھتے ہونا، عربی میں گائے کو بقر کہتے ہیں، اسی نسبت سے یہ بقر عید ہے، نہ کہ بکرا عید۔

تنک کر بولے ’لیکن گائیوں سے زیادہ تو بکرے ذبح ہوتے ہیں اس عید پر، اس لیے بکرا عید زیادہ مناسب ہے۔۔۔ اور ہمارے پروڈیوسر کو بھی یہی پسند ہے‘ ۔۔۔ یہ کہہ کر ہمارے دوست نے تو اپنی راہ لی مگر ہم سوچتے رہے کے شاید اس کی تمام باتیں درست ہوں۔ ہم نے تو بیس پچیس برس وطن مالوف سے باہر گزار دیئے جہاں نہ عید بقر ڈھنگ سے منائی گئی نہ بکرا عِید۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ عید آئی اور چلی گئی لیکن ہمیں خبر تک نہ ہوئی۔

یاد پڑتا ہے کہ اگر عید وِیک اینڈ پر آتی تو نماز کےلیے چلے جاتے تھے لیکن عام دِنوں میں آنے والی عید پر تو ادائیگیء نماز کی بھی کوئی ضمانت نہیں تھی۔

35 برس سے امریکہ میں آباد، ریڈیو پاکستان کے سابق ملازم اور شگفتہ مزاج شاعر ابوالحسن نغمی نے شاید ہمی جیسے کِسی گناہ گار کےلیے کہا تھا:

اُسے نہ بکرا، نہ دنُبہ، نہ کوئی اونٹ ملا
کِیا وہ کام کہ جس میں تھی اُس کو آسانی

نماز چھوڑ کے وہ اپنی ٰ جاب ٰ پر پہنچا
بروزِ عید یہی تھی بس اُسکی قربانی

اسی بارے میں
عمر شریف حیدرآباد دکن میں
05 April, 2006 | فن فنکار
بالی وڈ میں کامیڈی
06 July, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد