قصہ تمام: پاکستانی تھیٹر کی سیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا اصل تھیٹر کیا ہے؟ لوک تھیٹر، کمرشل تھیٹر یا جسے میڈیا سنجیدہ اور معیاری تھیٹر کہتا ہے؟ صدیوں پرانے بھانڈ، نقلیے، راس دھاریئے، سانگی، قصہ گو اور واریں گانے والے کون تھے؟ وہ تاریخ دان تھے یا فنکار؟ ان کا طریقہ کار کیا ہوتا تھا؟ وہ کس حال میں ہیں؟ کیا شہری تھیٹر انہیں کھا گیا یا ان کے زوال کی اصل ذمہ داری ٹی وی، سینیما اور ویڈیو کے سر ہے؟ پاکستان کا کمرشل تھیٹر کیا ہے اور یہ چھاپوں کے سائے تلے کیوں پلتا ہے؟ فحاشی کی تعریف کیا ہو؟ میڈیا سنجیدہ اور معیاری تھیٹر کسے کہتا ہے؟
آخر پاکستان کو تھیٹر اور سنگیت کا پہلا سکول کھولنے میں اٹھاون برس کیوں لگے؟ یہ اور ایسے کئی اور سوالوں کا جواب جاننے کے لیےاگلے ہفتے سے سیر بین میں میرے ہمراہ چلئے، بی بی سی اردو سروس کی پاکستان کے فنکاروں پر نئی سیریز: ’قصہ تمام: پاکستانی تھیٹر کی سیر‘۔ اس میں آپ جہاں کمرشل تھیٹر کے فنکاروں سے مل سکیں گے جیسے کہ نرگس، افتخار ٹھاکر، نسیم وکی اور سہیل احمد وہاں بامقصد تھیٹر کی کئی اہم شخصیات جیسے کہ ضیاء محی الدین اور شاہد محمود ندیم کے خیالات بھی سن سکیں گے۔ پھر آپ اس میں کئی لوک فنکاروں کے انٹرویو بھی سن سکیں گے اور ان کے سنائے ہوئے چند قصے اور واریں بھی۔ یہ سیریز بیک وقت آن لائن اور ریڈیو پر نشر کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||