عمر شریف حیدرآباد دکن میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عمر شریف آئے، انہوں نے دیکھا اور سب کا دل سمیٹ لے گئے۔ پاکستان کے ’کِنگ آف کامیڈی‘ اور شہنشاہ ظرافت ہندوستان کی سرزمین پر قہقہے بکھیرنے کا مشن کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے وطن لوٹ گئے ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ پڑوس میں اور پوری دنیا میں لگ بھگ پینتیس برسوں سے لوگوں کو ہنسانے اور لوٹ پوٹ کردینے والے فنکار کا ہندوستان میں یہ پہلا پروگرام تھا، اور یہ اعزاز بھی مزاح کے شہر حیدرآباد دکن کے حصے میں آیا کہ وہ مزاح کے آسمان کے سب سے چمکدار ستارے کی میزبانی کرے۔ یکم اپریل کی خوشگوار شام جب عمر شریف خم ٹھونک کر حیدرآباد کے اوپن ائر تھیٹر کے سٹیج پر اترے تو انہیں پھر میدان مارنے سے کوئی نہیں روک سکا۔ اپنے لطیفوں ، آس پاس کے لوگوں اور حاضرین سے نوک جھونک، طنز کے تیروں اور زبان کی مٹھاس سے عمر شریف نے وہ جادو جگایا کہ شاید حیدرآباد اور حیدرآباد والے اس سرور سے کافی طویل عرصے تک جھومتے رہیں گے۔ خود عمر شریف کی زبان میں،’مجھے یہاں آکر ہرگز نہیں لگتا کہ میں کسی اجنبی جگہ آگیا ہوں۔ نہ تو لوگوں کی آنکھوں میں بیگانگی ہے اور نہ ہی ان کے ملنے میں کوئی ہچکچاہٹ۔ میں یہاں ملنے والی محبت اور یہاں کے لوگوں کی گرم جوشی، یہاں کی زبان اور تہذیب سے بہت متاتر ہوں۔‘ حیدرآباد، دکن میں ان کا یہ پروگرام کئی اعتبار سے عمر شریف اور ان کے مداحوں دونوں کیلیے اہم تھا۔ آٹھ مہینے پہلے لاہور میں دل کی بائی پاس سرجری کے بعد یہ پہلی مرتبہ تھا کہ عمر شریف نے اتنے بڑے پیمانے پر کوئی کامیڈی شو کیا اور کئی تیز رفتار اور بے دم کردینے والے آئٹم پیش کیے جس میں ایک طرف پاکستان اور مغربی جرمنی کے ہاکی میچ کی دھواں دھار کمنٹری اور اس میں ’سمیع اللہ کلیم اللہ، کلیم اللہ پھر سمیع اللہ‘ کا کبھی نہ ختم ہونے والا ورد تھا تو دوسری طرف عزیز میاں قوال کی یادگار قوالی ’میں شرابی میں شرابی‘ کی ہوبہو نقل بھی۔ عمر شریف بھلے ہی پہلے کبھی یہاں نہ آئے ہوں لیکن بچہ ، جوان ، بوڑھا ہر کوئی ان سے واقف ہے۔ جب سے ’بکرا قسطوں پہ‘ جیسے کامیڈی ڈرامے کے ویڈیو کیسٹ ہندوستان میں آئے اور پھر کسی وبا کی طرح پھیلتے چلے گئے، تب ہی سے عمر شریف کا نام، ان کا چہرہ مہرہ اور ان کی چال ڈھال، یہاں کے لوگوں میں ساری چیزیں بے حد مقبول رہی ہیں۔ اسی بے پناہ اشتیاق کے ماحول میں جب عمر شریف اپنے فن کا جادو بکھیرنے کیلیے سٹیج پر نمودار ہوئے تو خواتین وحضرات کے جوش کا یہ عالم تھا کہ عمر شریف کی کسی بات یا ان کے کسی لطیفے سے پہلے ہی اوپن ایر تھیٹر ہزاروں قہقہوں سے گونجنے لگا۔ کامیڈی میں عمر شریف کا اپنا ایک انداز ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ کوئی ایک موضوع لیتے ہیں اور اس کے بعد اس پر بے تکان بولتے ہیں خوب بولتے ہیں۔ ویسے عمر شریف بغیر موضوع کے بھی بول سکتے ہیں اور ان کی چھیڑ چھاڑ سے کوئی نہیں بچتا۔
کل ملا کر عمر شریف نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا کہ وہ لوگوں کو اتنا ہنسائیں گے کہ تین برس تک کافی ہوجائے۔ لوگوں کو کے ایل سہگل سے لیکر محمد رفیع اور کشور کمار تک کی آوازیں سنا ڈالیں۔ مہدی حسن کے انداز میں ایک جدید فلمی گانا سناڈالا۔ عدنان سمیع سے لیکر نصرت فتح علی خان کی بھاری بھرکم شخصیتوں کا وہ نقشہ کھینچا کہ لوگ پیٹ پکڑ کر رہ گئے۔ لیکن ہنسی ہنسی میں عمر شریف دل کا درد بھی بانٹ گئے اور کچھ ایسی جذباتی باتیں کہیں کہ لوگوں کے دلوں سے بھی درد بھری آہ نکلی۔ ہندوستان اور ہندوستانیوں کیلیے اپنے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’میں شیونگ کا سامان، اپنے کپڑے کے علاوہ جو لایا ہوں وہ محبت کی سوغاتیں ہیں۔ پاکستانی قوم کی طرف سے آپ کیلیے پیار لایا ہوں، دوستی کے جذبات لایا ہوں، آپس میں مل بیٹھنے کی آشا لایا ہوں، آپ وہاں آئیں ہم یہاں آئیں یہ تمنائیں لایا ہوں۔‘ حیدرآباد، دکن پر ان کا کہنا تھا، ’ حیدرآباد کی مہمان نوازی نہ بھلانے والی اور مرتے دم تک یاد رکھنے والی ہے۔‘ عمر شریف نے یہ بھی عہد کیا کہ دل کے آپریشن کے بعد انہیں جو نئی زندگی ملی ہے اس نئے دور کو بھی وہ لوگوں کو ہنسانے کیلیے وقف کردینگے۔ عمر شریف ایک تاریخ ساز مشن پر ہندوستان آئے تھے۔ وہ ایسے پہلے پاکستانی فنکار ہیں جس نے ہندوستان کی سرزمین پر ایک ہندوستانی فلم کی ہدایت دی ہے۔ عمر شریف اس فلم ’تم میرے ہو‘ کی ہدایت دے رہے ہیں جو ایک حیدرآبادی پروڈیوسر مسعود علی بنارہے ہیں جس میں ہندی فلموں کے کئی مشہور اداکار جیسے کہ راجیش کھنہ، آرتی چھابڑیہ، اشمت پٹیل، رزاق خان، جسپال بھٹی کام کررہے ہیں۔ خود عمر شریف اس میں تین کردار ادا کررہے ہیں اور اس کے علاوہ ہندوستان کے تین بڑے اداکاروں پریش راول، انوپم کھیر اور جانی لیور سے بھی ان کی بات ہو رہی ہے۔ عمر کے الفاظ میں ’ یہ میرے لیے ایک فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ مجھے ہندوستان جیسی بڑی فلم انڈسٹری میں کام کرنے کا موقع ملا ہے اور میں انشا اللہ یہاں سے بھی اپنی صلاحتیں منوا کے اور اعزازات لے کے جاؤنگا۔‘ | اسی بارے میں بالی وڈ: ظہیرہ، جیسیکا پر فلمیں 22 March, 2006 | فن فنکار بھولی ہوئی ہوں داستان17 March, 2006 | فن فنکار واپسی کے لیئے مادھوری کی شرطيں14 March, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||