BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 March, 2006, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی وڈ: ظہیرہ، جیسیکا پر فلمیں

ظہیرہ
ظہیرہ کے زندگی حالات پر ہدایت کار اجول چٹرجی فلم بنارہے ہیں
کہتے ہیں فلمیں سماج کا آئینہ ہوتی ہیں۔ کبھی ہوتی تھیں کیونکہ اب تو زیادہ تر فلمیں مغرب اور یورپی سماج کی عکاس ہوتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے فلمساز ہالی وڈ فلموں کی نقل کرتے آئے ہیں لیکن حالیہ چند مہینوں میں ایسی کئی فلمیں بن رہی ہیں جن کی کہانی انڈین سماج اور طبقہ کی عکاس ہیں اور وہ سچے واقعات پر منحصر ہیں، اسی لیئے اس سال کے آخر تک ایسی فلموں کی بھر مار ہو گی۔

حلف لے کر عدالت میں جھوٹی گواہی کے معاملے کی مجرمہ ظہیرہ شیخ سے عالمی سطح پر لوگ اب واقف ہو چکے ہیں۔ ان کی زندگی حالات پر ہدایت کار اجول چٹرجی نے فلم بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے لیئے انہوں نے اداکارہ کوئنا مترا سے بات بھی کی ہے حالانکہ کوئنا نے فی الحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ تاہم چٹرجی کا کہنا ہے کہ وہ یہ فلم ضرور بنائیں گے البتہ اس فلم میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے بارے میں کچھ نہیں دکھائیں
گے۔ ان کی کہانی انسانی جذبات اور احساسات کی عکاس ہو گی۔

اس فلم کی کہانی کا محور ایک لڑکی ہوگی جو ہر پل دشوار کن حالات سے نبرد آزما ہوتی ہے۔ چٹرجی کے مطابق وہ فلم میں ظہیرہ کی بے بسی کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے جس کے تحت وہ جھوٹ بولنے پر مجبور ہوئی۔

چٹرجی کی آنے والی ایک فلم دہلی کی ماڈل جسیکا لعل قتل کیس کی کہانی ہے۔

جیسیکا لعل کا قتل ہوتے اس ہوٹل میں موجود سو سے زائد افراد نے دیکھا لیکن ہرگواہ عدالت پہنچتے پہنچتے اپنے بیان سے مکر گیا اور ایک مقتولہ اور اس کے گھر والوں کو انصاف نہیں ملا۔

جیسیکا کو گولی مار ہلاک کر دیا گیا تھا

چٹرجی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

ظہیرہ اور جیسیکا کے علاوہ گڑیا کی کہانی پر بھی فلم بن رہی ہے۔ بھارت میں گڑیا نامی لڑکی کی شادی جس فوجی سے ہوئی تھی وہ شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی کرگل جنگ کے لیئے چلا جاتا ہے اور کئی برس تک نہیں لوٹتا تو گڑیا کے گھر والے اس کی شادی کسی اور شخص سے کر دیتے ہیں۔

گڑیا اس کے بچے کی ماں بننے والی ہوتی ہے کہ ایک روز وہ فوجی واپس آجاتا ہے اور گڑیا پر اپنا دعوی پیش کر دیتا ہے ۔پنچایت بیٹھتی ہے اور علماء کا فتوی آتا ہے کہ گڑیا اپنے پہلے شوہر کے ساتھ اس کے گھر جائے۔

کوئی اس کی منظوری جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا اور بے بس مجبور بے زبان گڑیا پہلے شوہر کے ساتھ گھر تو چلی آتی ہے لیکن ایک سال کے اندر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

اس فلم میں گڑیا کے دوسرے شوہر کا کردار مشہور کامیڈین راج پال یادو کر رہے ہیں۔

تیسری فلم فلمساز مدھربھنڈارکر اور پریتی جین تعلقات پر مبنی ہے۔ فلمساز بھنڈارکر پر پریتی جین نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنی فلم میں کام دینے
کا وعدہ کرنے کے دوران اکیس مرتبہ ان کی عصمت دری کی تھی۔ اس الزام سے بالی وڈ میں سنسنی پھیل گئی تھی۔

اس کے بعد پریتی پر مدھر بھنڈارکر کے قتل کی سپاری دینے کا بھی الزام عائد
ہوا۔

ابھی یہ کیس عدالت میں زیرسماعت ہے۔ یہ فلم ہدایت کار شیورام یادو بنائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم اس کہانی سے متاثر ہو کر ضرور بنائی جارہی ہے لیکن کہانی تھوڑی سی مختلف ہے اور فلم کا نام انہوں نے مدھوبالا رکھا ہے۔

ممبئی میں بیئر بار میں کام کرنے والی ترنم کافی عرصہ تک سرخیوں میں رہی کیونکہ ان پر سٹہ بازی کا الزام عائد کیا گیا تھا اس سلسلہ میں ترنم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا تھا۔

 ظہیرہ اور جسیکا کے علاوہ گڑیا کی کہانی پر بھی فلم بن رہی ہے بھارت میں گڑیا نامی لڑکی کی شادی جس فوجی سے ہوئی تھی وہ شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی کرگل جنگ کے لئے چلا جاتا ہے اور کئی برس تک نہیں لوٹتا تو گڑیا کے گھر والے اس کی شادی کسی اور شخص سے کر دیتے ہیں
سچے واقعات پر فلمیں

اس دوران اسی جیل میں ترنم کی ملاقات پریتی جین سے ہوئی تھی۔ دونوں میں دوستی بھی ہوئی تھی۔

جیل کی سلاخوں سے ضمانت پر باہر آنے کے بعد پریتی جین کو ترنم کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں کام مل گیا۔ ترنم نے حالانکہ فلم پر پابندی عائد کرنے کے لیئے عدالت میں اپیل بھی داخل کی تھی لیکن وہ نامنظور ہو گئی اور فلم تکمیل کے مراحل طے کر رہی ہے۔

اسی طرح حقیقی زندگی پر مبنی ایک اور فلم بن رہی ہے۔ ممبئی میں کپڑا ملوں کے بند ہونے کے بعد مل مزدور بے روزگار ہو گئے اور کئی گھروانوں میں مل مزدوروں نے خودکشی کر لی۔ نوجوان بے راہ رو ہو گئے اور کئی نے مافیا کا ساتھ اپنا لیا۔ اسی موضوع پر نامور فلمساز مہیش مانجریکر ایک فلم بنا رہے ہیں وہ مل مزدوروں کے حالات سے اچھی طرح اس لئے واقف ہیں کہ وہ بھی ایک مل مزدور کے ہی بیٹے ہیں۔

یہ تمام فلمیں حقیقی واقعات کی عکاس ہیں۔ اس میں کئی کہانیوں کو ملا کر ایک مصالحہ دار فلم بنانے کے بجائے اوریجنل کہانی کو فلمایا جا رہا ہے۔ دیکھنا ہے کہ یہ فلمیں ناظرین کو کتنی پسند آتی ہیں اور باکس آفس پر کتنا کاروبار کرتی ہیں۔

گجرات فسادات پر مبنی فلم فائنل سولوشن کا ایک سینفلم پر پابندی
گجرات فسادات پر مبنی فلم فائنل سولوشن
اسی بارے میں
بولی ووڈ: نجی زندگیوں پر فلمیں
21 September, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد