BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 December, 2007, 05:22 GMT 10:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن یا بائیکاٹ، اجلاس جاری
اے پی ڈی ایم قیادت
’الیکشن میں حصہ لینا عدلیہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے برابر ہوگا‘
لاہور میں آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کا اتوار کو ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے، جس میں آٹھ جنوری کے عام انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اب تک کی صورتحال کے مطابق اے پی ڈی ایم میں شامل جماعت اسلامی اور تحریک انصاف انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) گو مگو کا شکار ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ترجمان احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے اکثریتی کارکن انتخابات کا میدان ’مشرف نواز‘ سیاسی قوتوں کے لیے کھلا نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ’اگر جے یو آئی (ف)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور اے این پی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے لیے باہر بیٹھے رہنا مشکل ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ جماعتیں جن کی جنرل (ریٹائرڈ) مشرف سے مفاہمت ہے وہ اسمبلی میں پہنچ کر اٹھارھویں آئینی ترمیم لا کر ’تین نومبر‘ کے اقدام کو تحفظ دے سکتی ہیں۔ تین نومبر کو صدر مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا جس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کے بیشتر ججوں کو رخصت ہونا پڑا۔

میاں صاحب اور دباؤ
 اب دیکھنا یہ کہ میاں صاحب (نواز شریف) بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا کسی نئے دباؤ کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں
منور حسن

اے پی ڈی ایم کی ایک اور رکن جماعت جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اتحاد کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی ایم میں دو پارٹیوں کے علاوہ ان قوتوں کا قبضہ ہے جن کی نہ تو کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی ان کی عوام تک رسائی ہے۔

مولانا نے کہا کہ جو دو بڑی پارٹیاں ہیں انہوں نے انہیں پانچ اکتوبر کو چھوڑ دیا تھا۔ ’تو ہم نے انہیں کہا ہے کہ وہ پہلے ہمیں سیاسی ہمسفر بنانے کے قابل تو ہوں۔‘ ان کا اشارہ غالباً مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کی طرف تھا، جن کے ارکان نے صوبہ سرحد کی اسمبلی سے استعفے دے دیے تھے۔

جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری منور حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ حتمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق ان کی جماعت کے امیدوار پندرہ دسمبر کے روز اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لینگے۔

منور حسن نے کہا ’اب دیکھنا یہ کہ میاں صاحب (نواز شریف) بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا کسی نئے دباؤ کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔‘

مولانا فضل الرحمٰن اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت نے وکلاء اور پی سی او کے تحت برطرف کیے گئے ججوں کا ساتھ دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ ’جسٹس افتخار کی شکل میں پہلی دفعہ پاکستانی عوام کو ایسا لگا تھا کہ اب قانون کی حکمرانی ہوگی، الیکشن میں حصہ لینا ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہوگا۔‘

یاد رہے کہ آل پاکستان وکلاء کنونشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹھ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور وکلاء کی عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد میں شامل ہوں۔

نواز شریف اور بینظیر بھٹوبائیکاٹ، نو بائیکاٹ
انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان
معزول جسٹس خواجہ محمد شریف’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
نواز شریف اور بینظیر بھٹواےپی ڈی ایم اپرہینڈ
انتخابات میں حصہ لینے کی دوڑ میں بریکیں
ملگ گیر احتجاجملگ گیر احتجاج
اے پی ڈی ایم کے یومِ احتجاج کی تصاویر
راجہ ظفر الحق (فائل فوٹو)ملک گیر احتجاج
الیکشن بائیکاٹ موخر،احتجاج کی کال
’زیرو سم گیم‘
فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی
محمود اچکزئی’حقِ حکمرانی‘
فوج اور جاسوسی اداروں کا کوئی کام نہیں: اچکزئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد