انتخاب امیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | حالیہ برسوں میں باجوڑ ایجنسی میں تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں |
پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تین مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبیینہ عکسریت پسندوں نے نشانہ بنایا ہے۔ جمعرات کے روز تحصیل ناواگئی کے علاقے شنگر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک چیک پوسٹ سے لیویز کے تین اہلکاروں کو اغوا کرلیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ناواگئی کے بازار کے قریب شنگر میں قائم چیک پوسٹ پر چند نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے دھاوا بولا اور وہاں لیویز کے تعینات اہلکاروں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس سے پہلے بدھ کی شب پاکستان--افغانستان سرحد کے قریب واقع باجوڑ ایجنسی کے علاقے مٹاک میں نامعلوم مسلح افراد نے لیویز کی ایک چیک پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے وہاں تعینات لیویز کے اہلکاروں کو چیک پوسٹ سے نکل جانے کو کہا جس کے بعد حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ جبکہ باجوڑ ایجنسی ہی کی تحصیل ماموند کے علاقے دامنگئی میں واقع فرنٹیئر کور کے قلع کو نامعلوم افراد نے بدھ کی شب راکٹوں سے نشانہ بنایا۔ حملہ کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیشِ نظر باجوڑ ایجنسی کے حکام نے علاقے میں موٹر سائیکل پر دو افراد کی سواری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق جمعہ سے ہوگا۔ دو روز پہلے باجوڑ ایجنسی کے علاقے لوئی سم میں مسلح آوروں نے لیویز کے چھ اہلکاروں کو اغواء کرنے کے بعد چیک پوسٹ کو بم دھماکے سے اڑا دیا تھا جن کے بارے میں تاحال کچھ معلومات نہیں ہیں۔ |