BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 December, 2007, 09:39 GMT 14:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریف: مقدمے کی سماعت ملتوی

نواز شریف
ان مقدمات کی سماعت کے دوران ملزمان کے وارنٹ یا سمن جاری کرنے کی درخواست نہیں کی: نیب اہلکار
راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے بدھ کے روز سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ان کے بھائی شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تین مقدمات کی سماعت بارہ جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں ان تین ریفررنس کے بارے میں کوئی واضح ہدایات نہیں ملی لہذا ان مقدمات کی سماعت ملتوی کردی جائے ۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے آج ان مقدمات کی سماعت کے دوران ملزمان کے وارنٹ یا سمن جاری کرنے کی درخواست نہیں کی تاکہ ملک میں ہونے والے عام انتحابات کے سلسلے میں یہ تاثر نہ ابھرے کہ کسی جماعت کو الیکشن سے قبل ہراساں کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ شریف برادران کے خلاب نیب کے تین مقدمات ہیں جن میں حدبیہ پیپر ملز، اتفاق فونڈری اور رائے ونڈ میں غیر قانونی اثاثہ جات شامل ہیں۔ یہ تمام مقدمات سنہ دوہزار میں درج کیے گئے تھے۔ بعدازاں عدالت نے بارہ اپریل سنہ دو ہزار ایک میں نیب کی درخواست پر ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی تھی۔

ذوالفقار بھٹہ کے مطابق حدبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نو افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن میں میاں محمد شریف مرحوم، نواز شریف، شہباز شریف، میاں عباس شریف، حسین نواز، حمزہ شہباز، شمیم اختر بیوہ محمد شریف، صبیحہ عباس زوجہ میاں عباس شریف اور نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر زوجہ محمد صفدر شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اتفاق فونڈریز کے مقدمے میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں میاں محمد شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مختار حسین اور کمال قریشی شامل ہیں جبکہ رائے ونڈ میں واقع اثاثہ جات کے مقدمے میں میاں محمد شریف ان کی اہلیہ شمیم اختر اور میاں نواز شریف نامزد ملزم ہیں۔

واضح رہے کہ ان مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے نیب کی طرف سے یہ درخواست منظور کر لی تھی کہ نواز شریف کے مرحوم والد میاں محمد شریف کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔

تاہم عدالت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات کے فیصلے میں اگر میاں شریف کے ذمے کوئی ادائیگی نکلی تو ان کے قانونی ورثاء سے حاصل کی جائے گی جس پر عدالت نے کہا کہ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو عدالت میں اس ضمن میں دوبارہ درخواست دی جائے۔

اسی بارے میں
’نواز الیکشن نہیں لڑ سکتے‘
03 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد