بلوچستان: ایک ہزار امیدوار میدان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان قومی اسمبلی کی 17 اور صوبائی اسمبلی کی 65 نشستوں کے لیے ایک ہزار سے زیادہ امیدواروں کو اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ ان میں سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی،سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال،سابق گورنر جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ،سابق وزیراعلیٰ میر جام محمد یوسف اور سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند شامل ہیں۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی17 بارکھان کی نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار باز محمدکھیتران کے مقابلے میں ان کے سیاسی حریف مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے سردار عبدالرحمن کھیتران کے کاغذات منظور ہوئے ہیں ۔عبدالرحمن کھیتران کی اہلیہ نسرین کھیتران ان کی متبادل امیدوار ہیں۔ کوئٹہ میں صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات کے لیے بلوچستان سے قومی اسمبلی کی17اور صوبائی اسمبلی کی65نشستوں کے لیے 14سو سے زیادہ امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے تھے جن میں خواتین کے لیے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی گیارہ نشستیں بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ اس بار بلوچستان سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے گیارہ خواتین براہ راست حصہ لے رہی ہیں جن میں سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال ، سابق صوبائی وزراءشمع پروین مگسی اور نسرین کھیتران کے علاوہ رحیمہ جلال، ماریہ خان، فریدہ کاکڑ، عابدہ بی بی اور روبینہ جبین بٹ شامل ہیں۔
دوسری جانب قومی ا سمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے بائیس خواتین نے کاغذات جمع کرائے تھے جن میں چھ کے کاغذات مسترد ہوگئے ۔ ان میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی اہلیہ اور سابق صوبائی وزیر شمع پروین مگسی اور خان آف قلات (مرحوم)میر دادخان کی اہلیہ بیگم جمیلہ داد بھی شامل ہیں۔ خواتین کی گیارہ نشستوں کے لیے 53خواتین میدان آئی تھیں جن میں سترہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے ۔ ان میں سابق رکن اسمبلی آمنہ خانم بھی شامل ہیں۔ تاہم قومی اسمبلی کی نشست این اے 267پر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی کی اہلیہ پروین مگسی کا براہ راست مقابلہ سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند سے ہوگاجبکہ جھل مگسی سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر سردار یار محمد رند اورسابق وزیراعلیٰ نواب ذو الفقارعلی مگسی کے درمیان مقابلہ ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی48کیچ 1پر سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال بلوچستان کے سابق وزیر خزانہ سید احسان کا آزاد حیثیت سے مقابلہ کررہی ہیں کیونکہ مسلم لیگ ق نے زبیدہ جلال کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔اسی حلقے سے زبیدہ جلال کے علاوہ دو اورخواتین رحیمہ جلال اور فہمیدہ بی بی بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ قومی اسمبلی کی نشست این اے272پر سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال کا مقابلہ نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر اسلم بلیدی سے ہوگا۔ قومی اسمبلی کی نشست این اے 271پر سابق گورنر بلوچستان ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ اور مسلم لیگ (ق) کے سابق وفاقی وزیر سردار فتح محمد محمد حسنی ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔اسی طرح نصیر آباد میں این اے 266 پر سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کے مقابلے میں ان کے بھائی میر عبدالرحمن جمالی کومسلم لیگ (ق) نے ٹکٹ دیکر میدان میں کھڑا کردیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے لیے حلقہ پی بی6کوئٹہ سے سب سے زیادہ یعنی امیدوار پچاس امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ سب سے کم امیدوار ڈیرہ بگٹی کی نشست پر ہیں جہاں بلوچ قوم پرست رہنماءنواب اکبر بگٹی کے مخالف طارق مسوری اور ان کے بھائی فقیر محمد مسوری میدان میں ہیں۔واضح رہے کہ جب تک نواب اکبر بگٹی زندہ تھے تو اس نشست پر ہمیشہ نواب بگٹی کی حمایت سے اسمبلی کے لیے کوئی بھی امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوجاتا تھا۔ اسی طرح نگراں صوبائی حکومت میں شامل وزراءکے رشتہ بھی میدان میں کھڑے ہیں ان میں نگراں وزیراعلیٰ سردار محمد صالح بھوتانی کے بھائی اور بلوچستان اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر سردار اسلم بھوتانی کے مقابلے میں لسبیلہ سے آٹھ امیدوار کھڑے ہیں جبکہ آواران سے صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی بی41پر نگراں صوبائی وزیر عبدالمجید بزنجو کا بیٹا عبدالقدوس بزنجو مسلم لیگ ق کی جانب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری حاصل بزنجو کے مد مقابل ہیں۔ اگرچہ اے پی ڈی ایم کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلہ ابھی تک برقرار ہے لیکن چمن سے قومی اسمبلی کی نشست پر پشتونخوا ملی عوامی پار ٹی کے سربراہ محمو د خان اچکزئی کے دو بھائی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی اور ڈاکٹر احمد خان اچکزئی کے کاغذات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں جبکہ محمود خان اچکزئی نے موجودہ حالات میں آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات میںحصہ لینے کو ملک و قوم سے غداری قرار دیکر احتجاجاً کاغذات جمع نہیں کیے ہیں ۔
اسی طرح ژوب سے قومی اسمبلی کی نشست پر جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی کے مقابلے میں جمعیت ہی سے تعلق رکھنے والے مولانا عصمت اللہ کے کاغذات بھی منظور ہوئے ہیں جبکہ پی بی20 قلعہ سیف اللہ سے صوبائی اسمبلی کے لیے سب سے زیادہ یعنی چھ علمائے کرام جن میں دو جمعیت (شیرانی گروپ ) اور دوعصمت اللہ گروپ اوردو ایم ایم اے کی ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اوربلوچستان کے سابق سینئر صوبائی مولانا عبدالواسع جمعیت (شیرانی گروپ)کی طرف سے ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔ کوئٹہ چاغی کی نشست این اے260پرجمعیت علمائے اسلام کے امیدوار ملک سکندر ایڈووکیٹ کے مقابلے میں ایم ایم اے نے جے یو آئی ہی کے رہنماءحافظ حسین احمد کو ٹکٹ دیکر میدان میں کھڑا کردیا ہے۔ لسبیلہ میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام محمد یوسف کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد اکبر لاسی سے ہوگا جبکہ کوئٹہ میں بلوچستان بھر میں مسلم ق سے الگ ہونے والے 42امیدواروں نے ہم خیال گروپ بناکر سابق گورنر بلوچستان سید فضل آغا کی قیادت میں لیگی امیدواروں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان میں سابق گورنر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور سابق ضلعی ناظم محمد رحیم کاکڑ بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں 13,490 کاغذاتِ نامزدگی وصول30 November, 2007 | پاکستان بائیکاٹ کا آپشن کھلا ہے: بینظیر30 November, 2007 | پاکستان سابق وزرائے اعظم بینظیر، نواز شریف، چودھری شجاعت انتخابی میدان میں 26 November, 2007 | پاکستان ’فوج کے تحت انتخاب ڈرامہ بازی‘ 02 December, 2007 | پاکستان ’شفاف الیکشن وگرنہ بائیکاٹ‘03 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||