جنرل مشرف کا الوداعی دورہ، کل وردی اتار دیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف نے منگل کو مختلف فوجی مراکز کے دو روزہ الودعی دوروں کا آغاز راولپنڈی میں جائنٹ سٹاف ہیڈکواٹرز سے کیا۔ جنرل مشرف کی آمد پر انہیں عسکری روایت کے مطابق گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس کے بعد انہوں نے چئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید سمیت دیگر اعلی اہلکاروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے تحفوں کا تبادلہ بھی کیا۔ بعد میں جنرل مشرف نے اسلام آباد میں پاکستان بحریہ اور فضائیہ کے ہیڈکواٹر کے صدر دفاتر کا بھی دورہ کیا اور ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔ جنرل مشرف بدھ کو جنرل ہیڈکواٹرز کا دورہ کریں گے جس کے بعد ایک تقریب میں فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کی جائے گی۔ حکام کے مطابق فوجی کمان کی تبدیلی کی تقریب بدھ کو صبح دس بجے سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھائی جائے گی۔ تاہم بطور سویلین صدر پرویز مشرف فوج کے سپریم کمانڈر رہیں گے اور ان کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں کافی عرصے سے جنرل پرویز مشرف سے فوجی عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ فوجی وردی اتارنے کا فیصلہ سیاسی مبصرین کے مطابق حزب اختلاف کے مطالبے سے زیادہ جنرل مشرف کے ملک کو جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کے ان کے اپنے پروگرام کا حصہ ہے۔
جنرل مشرف وردی ایک ایسے وقت اتار رہے ہیں جب ان کے دو بڑے سیاسی حریف سابق وزراء اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف ملک واپس لوٹ چکے ہیں۔ جنرل مشرف نے ابھی سیاسی جماعتوں اور بین القوامی برادری کے ایک اور بڑے مطالبے یعنی ہنگامی حالت کے خاتمے کے بارے میں کوئی واضع تاریخ دینے سے انکار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ایمرجنسی کے تحت انتخابات زیادہ منظم اور شفاف انداز سے منعقد کروائے جاسکتے ہیں۔ پیر کو بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے صدر کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی نے کہا تھا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ صدر کا حلف اٹھانے سے پہلے وہ بحیثیت آرمی چیف ذمہ داریاں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کر دیں گے۔ راشد قریشی کے مطابق صدر جمعرات کو صبح گیارہ بجے ایوان صدر میں حلف لیں گے۔ اس سے قبل عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ نے بھی صدر کو یکم دسمبر سے قبل وردی اتارنے کے لیے کہا تھا۔ عدالت نے ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف کئی آئینی درخواستیں بھی مسترد کر دی تھیں۔ جنرل مشرف بی بی سی سے ایک انٹرویو میں اپنی فوجی وردی کو اپنی ’ کھال‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔ ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل اس وقت کی سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے، جس کی سربراہی جسٹس رانا بھگوان داس کر رہے تھے، صدر کے دو عہدے رکھنے اور کسی سرکاری ملازم کی اپنا عہدہ چھوڑنے کے دو سال کے اندر صدر کے عہدے کے لیے اہلیت کے بارے میں آئینی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ تین کے مقابلے میں چھ ججوں نے ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔ بنچ میں شامل جسٹس فلک شیر نے اختلافی نوٹ لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس کے بعد جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد اور پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم نے صدر کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کا جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم گیارہ رکنی بنچ اس مقدمے کی سماعت ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل کر رہا تھا۔ جنرل مشرف نے فوج میں کمیشن انیس سو اکسٹھ میں پی ایم اے کاکول پہنچنے پر حاصل کی۔ انیس سو اکانوے میں وہ میجر جنرل جبکہ پچانوے میں لیفٹنٹ جنرل بنے۔ انہیں سات اکتوبر انیسو اٹھانوے میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ترقی دے کر فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ انہیں جنرل جہانگیر کرامت کی جگہ مقرر کیا گیا تھا جو حکومت اور فوج کے درمیان شرکت اقتدار کی تجویز کی وجہ سے متنازعہ ہوگئے تھے۔ جولائی انیس سو ننانوے میں انہیں کارگل کی جنگ کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||