اقبال اور رحمٰن، عاصمہ کےگھرقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر اور ممتاز دانشور آئی اے رحمن کوشام کے وقت عاصمہ جہانگیر کی رہائش گاہ منتقل کردیا گیا ہے اور عاصمہ جہانگیر کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔ آئی اے رحمن کے صاحبزادے اشعر رحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد کو پولیس نے تقریبا پانچ گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد شام کو ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے عاصمہ جہانگیر کےگھر منتقل کیا ہے اور ان کی اپنے والد سے فون پر بات ہوئی ہے تاہم ان سے ملاقات پر پابندی ہے۔ اشعر رحمن کے مطابق آئی اے رحمن کو تاحال نظر بندی کے احکامات نہیں فراہم نہیں کیے گئے اور زبانی طور پر نظربندی کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ ان کے بقول عاصمہ جہانگیر کےگھر کے ٹیلی فون کام نہیں کر رہے ہیں جب کہ پولیس نے آئی اے رحمن اور اقبال حیدر کو موبائیل فون استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ واضح رہے کہ اتوار کو روزنامہ ڈان صفحہ اول پر آئی اے رحمن کا ایک مضمون شائع کیا گیا تھا جس میں انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے حالیہ اقدام کو ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا تھا اور مشورہ دیا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ سنیچر کو جاری ہونے والے احکامات کو ملکی سلامتی کی خاطر واپس لے لے۔ علاوہ ازیں سابق وزیر اور دانشور ڈاکٹر مبشر حسین پولیس نے رہا کردیا ہے۔ انہیں انسانی حقوق کمیشن کے دفتر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ شہر میں نظربندیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان بارکونسل کے سابق وائس چئرمین حافظ عبدالرحمن انصاری اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون، پنجاب بارکونسل کے رکن نوید عنایت ملک، لاہور بار کے نائب صدر افتخار بھٹی سمیت متعدد وکلاء کوگرفتار کیا گیا ہے۔ کئی وکلا رہنما ممکنہ گرفتاریوں کے پیش نظر روپوش ہوگئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’حلف نہ اٹھانےوالے دفتر جائیں گے‘04 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان03 November, 2007 | پاکستان ’نظریں عدالت کے فیصلے پر‘03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||