چمچے، لوٹے اور لفافے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کی نو تعمیر نیشنل آرٹ گیلری میں زیرِ نمائش فن پاروں پر یوں تو گذشتہ چھ ماہ سے بحث جاری ہے اور نیم برہنہ اجسام کی متعدد تصاویر اور مجسموں کو سنسر کی غضب ناک نگاہوں کے سامنے سے گزرنا پڑا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر ابھی تک کسی سرکاری یا غیر سرکاری محتسب نے لوٹوں کے اس ڈھیر پر اعتراض نہیں کیا جو گیلری کے ایک نمایاں مقام پر زیرِ نمائش ہے۔ قریب سے دیکھنے پر یہ محض پلاسٹک کے سفید لوٹے ہیں جنہیں اوپر نیچے سجا کر ایک منّظم شکل دے دی گئی ہے لیکن ذرا فاصلے پر جا کر دیکھا جائے تو یہ تمام لوٹے مِل کر بہت بڑے واحد لوٹے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور اسطرح جزو اور کل کا فرق مٹ جاتا ہے کیونکہ ہر اکائی کا انفرادی لوٹا پن ختم ہو کر ایک کائناتی لوٹے میں ضم ہوجاتا ہے اور یہ ہمہ گیر مہا لوٹا ہماری نگاہوں کے سامنے موجود واحد حقیقت رہ جاتی ہے۔ کچھ اور دور جا کر لوٹوں کے اس ڈھیر پر نگاہ ڈالیئے تو یہ ایک شاہی مسند یا اقتدار کی کرسی کا شائبہ بھی دیتے ہیں۔ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی اور جب ہم دیدہء دِل وا کر کے روزمرہ استعمال کے اس برتن کو دیکھتے ہیں تو ٹونٹی سے لیکر پیندے تک ہمیں یہ ایک بلیغ سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی استعارہ دکھائی دیتا ہے۔ سیاست اور صحافت میں لوٹے کا عمل دخل کوئی آج کی بات نہیں ہے۔ ستر اسّی برس پہلے مولانا ظفر علی خان نے یہ لفظ ڈاکٹر عالم نامی ایک ایسے شخص کےلئے استعمال کیا تھا جو ہر تیسرے دِن اپنی پارٹی بدل لیتا تھا۔ پہلے وہ اتحاد المسلمین میں تھا، پھر مسلم لیگ میں چلا آیا اور ہوا کا رُخ بدلتے ہی کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ جب ملک تقسیم ہوگیا تو پاکستان آکر ایک بار پھر مسلم لیگ میں شرکت کی کوشش کی لیکن مولانا ظفر علی خان کا دیا ہوا خطاب اُس پر ایسا چسپاں ہوا کہ لوگ اسے ڈاکٹر عالم لوٹا کہہ کر چھیڑنے لگے اور یہ چھیڑ چھاڑ اس قدر بڑھ گئی کہ ڈاکٹر عالم لوٹا لاہور سے فرار ہو کر واپس بھارت چلا گیا۔ اسلام آباد کی آرٹ گیلری میں آنے والے غیر ملکی سیاح لوٹے کی شاندار مقامی تاریخ سے واقف نہیں ہیں اور وہ اسے محض عام استعمال کا ایک برتن سمجھتے ہیں۔ چنانچہ لوٹوں کے ڈھیر کو حیرت سے تکنے والی ایک امریکی خاتون کو جب ہم نے بتایا کہ لوٹا محض ایک برتن نہیں بلکہ ایک بلیغ سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی استعارہ بھی ہے تو خاتون نے بڑی دلچسپی سے ہماری تقریرِ دلپزیر سنی لیکن پھر وہ اسی زور شور سے اپنا نقطۂ نظر بھی بیان کرنے لگی، اسکے مطابق اِن معانی میں لوٹا انگریزی کے لفظ براؤن نوز یعنی بھُوری ناک کا عین متبادل ہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ کاسہ لیسی، چمچہ گیری اور حاشیہ برداری کرنے والے لوگ جب اپنی کارکردگی کی معراج پر پہنچتے ہیں تو فِروتنی اور خاکساری کی جھونک میں ان کی ناک بڑے صاحب کے قدموں کو چھوتی ہوئی جسم کے ناقابلِ بیان حصّوں تک جا پہنچتی ہے جہاں مسلسل رگڑ سے اُن کی ناک بھوری ہو جاتی ہے۔ خاتون بضد تھیں کہ لوٹے اور براؤن نوز میں ایک براہِ راست تعلق ہے کیونکہ لوٹے کی ٹونٹی بھی بوقتِ استعمال انہی اعضائے جسمانی کے آس پاس گھومتی ہے جہاں خوشامدی کی ناک دھّکے کھاتی ہے۔ امریکی خاتون کی تحقیق اپنی جگہ، جسے کوئی کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی محقق آگے بڑھا سکتا ہے لیکن ہماری یک لسانی تحقیق کا محدود سا دائرہ صرف اتنا اشارہ کرتا ہے کہ اُردو میں بے پیندے کا لوٹا ایک معروف محاورہ رہا ہے، یعنی ایسا لوٹا جو ایک جگہ نہ ٹِکتا ہو، کبھی دائیں لڑھک جاتا ہو اور کبھی بائیں۔ بے اصول اور ڈھِلمل یقین آدمی کو بے پیندے کا لوٹا کہا جاتا ہے اور مولانا ظفر علی نے بھی اسی پس منظر کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شکار کو ایک لوٹا قرار دیا تھا۔ مولانا کا یہ احسان البتہ اُردو زبان پر ضرور رہے گا کہ انہوں نے ایک لمبے جملے سے نِجات دِلا کر محض ایک لفظ سے کام نکال لیا اور ہمارے یہاں سن اسّی اور نوّے کی سیاست میں لوٹے کا لفظ ایک نئے کرّ و فرّ کے ساتھ داخل ہوا، لیکن لوٹے پر مزید کچھ کہنے سےپہلے اُس کے جدِّ امجد یعنی چمچے کو کچھ خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔
چمچہ بھی ایک جامع اور مختصر لفظ میں ڈھلنے سے قبل ’ ہر دیگ کا چمچہ‘ٰ ہوا کرتا تھا لیکن آج محض چمچہ کہہ دینے ہی سے ایک خوشامدی، چاپلوس اور حاشیہ بردار شخص کا تصوّر ذہن میں آجاتا ہے۔ ویسے تو برتنوں کی دنیا میں چمچے کا مقام بہت نیچے آتا ہے لیکن فرائضِ منصبی کے لحاظ سے دیکھیے تو اس ننھی سی جان نے بہت بڑی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ خوراک کو دیگ سے نکال کر پلیٹ تک لانا ہو یا پلیٹ سے اسکی منزلِ مقصود یعنی انسانی منہ تک پہنچانا ہو، یہ کام چمچے کے سوا کون کر سکتا ہے (کیا کہا، کانٹا اور چاپ سِٹک؟ اچھا ذرا ان دونوں کی مدد سے سُوپ تو پی کر دکھائیے!) چمچے کی اس جانثاری پر قربان جائیے کہ اسکے پیشِ نظر صرف اتنا ہی فریضہ رہتا ہے کہ خوراک کے منبعہ (دیگ، پتیلا، ڈونگا، ڈِش) سے مال اٹھائے اور اپنے مالک کے منہ میں پہنچا دے۔ ظاہر ہے کہ دیگ سے مال نکالنے کے لئے بڑے چمچے استعمال ہوتے ہیں۔ پرات سے پلیٹ تک کا سفر ذرا درمیانے سائز کے چمچے سے ہوتا ہے جبکہ پلیٹ سے منہ تک جانے کے لئے پلاؤ کو چھوٹے چمچے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ زردے اور رسملائی کے لئے چمچہ اور بھی چھوٹا ہو جاتا ہے لیکن سائز کوئی بھی ہو چمچے کی ڈیوٹی وہی رہتی ہے۔ تاہم فرائضِ منصبی کی اس بنیادی اہمیت کے باوجود بہت کم مالکان ہیں جو اپنے چمچوں کی قدر جانتے ہوں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ چمچے کی قدر و قیمت مالک کے پیٹو پن پہ منحصر ہے یعنی مالک جتنا پیٹو ہوگا چمچے کی اہمیت اسی قدر بڑھ جائے گی۔ لیکن اس تمام تر اہمیت کے باوجود چمچہ دورِ جدید کے اپنے ہم منصب لوٹا جب چاہے مالک کی چمچہ گیری بھی کر سکتا ہے لیکن کسی چمچے کےلیے فوراً لوٹے میں تبدیل ہوجانا ممکن نہیں ہوتا۔ لوٹا اگر وقتی طور پر چمچے کا کردار اختیار کر بھی لیتا ہے تو لوٹا گیری کے خطرناک ہتھیاروں سے دست بردار نہیں ہوتا بلکہ وقتی مصلحت کے تحت ان کے استعمال سے گریز کرتا ہے۔ آج کا لوٹا مولانا ظفر علی خان کے اسّی برس پرانے لوٹے سے کہیں زیادہ خطرناک چیز ہے لیکن اسلام آباد کی آرٹ گیلری میں گھومنے والی امریکی خاتون کو لوٹے کے ان سبھی پہلؤں سے روشناس کرانا اتنا آسان نہیں اور گیلری کے منتظمِ اعلٰی کو اس کام کےلئے مناسب مشاہرے پر مقامی گائیڈ متعین کرنے چاہئیں۔ لیکن آرٹ گیلری کی اس بحث میں ہم نے چمچے اور لوٹے کے ایک نئے لیکن اہم رشتہ دار’لفا فے‘ کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ لفافے کا وجود تو زمانۂ قدیم سے ہے لیکن ہمارے یہاں اِس نے چند برس پہلے نواز شریف کے دورِ حکومت میں شہرت پائی تھی جب کسی بھی ناجائز کام کےلئے پیسہ وصول کرنے والے کو یہ لقب ملنے لگا تھا۔ چونکہ یہ پیسہ عموماً خاکی رنگ کے ایک لفافے میں پیش کیا جاتا تھا اس لئے وصول کنندہ خود بھی لفافہ کہلانے لگا لیکن لفافے کی اس سادہ سی تشریح کے بعد اسکے ایک نسبتاً گہرے پہلو کی طرف اشارہ کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ لفافہ ایک ڈھیلی ڈھالی، خالی خولی اور بِنا ریڑھ کی ہڈی کے مخلوق ہے، جس میں نئے نکور کرنسی نوٹوں کی گڈی ڈال دی جائے تو لفافے میں ایک اکڑ پیدا ہوجاتی ہے اور جب تک لفافے میں نوٹ رہتے ہیں اسکی اکڑ فُوں بھی قائم رہتی ہے۔ نوٹ نکل جانے کے بعد لفافہ پھر سے ایک ڈھیلی ڈھالی، خالی خولی اور روکھی پھیکی مخلوق بن جاتا ہے اور نوٹوں کی نئی کھیپ کےلئے پھڑ پھڑاتا ہے۔ نیشنل گیلری کے منتظمین سے گذارش ہے کہ وہ پلاسٹک کے سفید لوٹوں کے ساتھ ساتھ رنگ برنگے کرنسی نوٹوں اور خاکی لفافوں کی ایک نمائش کا اہتمام بھی کردیں تاکہ بہت سے دیکھنے والوں کا بھلا ہوسکے، البتہ احتیاط کا تقاضہ ہے کہ نمائش کے لفافوں میں اصلی نوٹ استعمال نہ کئے جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||