ریڈیو پاکستان میں آتشزدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت میں اتوار کو آگ لگ گئی جس پر کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا تاہم اُس وقت تک تاریخی اہمیت کی حامل عمارت کا بیشتر حصہ بری طرح متاثر ہوچکا تھا۔ آتشزدگی سے بالائی منزل پر واقع تمام سٹوڈیو مکمل طور پر جل گئے ہے۔ ریڈیو پاکستان کی عمارت میں آگ اتوار کی صبح دس بجکر پچپن منٹ پر اُس وقت بھڑکی جب سٹوڈیو میں بچوں کے ایک پروگرام ’بچوں کی دنیا‘ کی ریکارڈنگ جاری تھی جس میں تقریبا چالیس بچے شریک تھے۔ آگ لگنے سے عمارت میں بھگدڑ مچ گئی تاہم ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ بچوں کو جلتی ہوئی عمارت سے نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔ واقعہ کی اطلاع پر شہری حکومت، پاکستان بحریہ اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی ڈیڑھ درجن سے زائد آگ بجھانے والی گاڑیاں اور دو اسنارکل موقع پر پہنچ گئیں اور لگ بھگ چار گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔
چیف فائر آفیسر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سلیم احتشام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تاہم احتمال ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، چھت اور دیواروں میں لکڑی کے زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے آگ نے چند ہی منٹوں میں عمارت کے وسیع حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سلیم احتشام کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے سات مقامات سے کوشش کی گئیں اور عمارت کی چھت اور کھڑکیوں کو توڑ کر اسنارکل کی مدد سے آگ بجھائی گئی۔ ریڈیو پاکستان کی عمارت میں آتشزدگی کے باعث نشریات کچھ وقت کے لیے متاثر ہوئیں تاہم ریڈیو پاکستان کراچی سٹوڈیو کے سینیئر پروڈیوسر محبوب سرور نے بتایا گیا کہ کراچی میں لانڈھی کے علاقے میں واقع ریڈیو پاکستان کے سٹوڈیو سے متبادل نشریات شروع کردی گئی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت میں ایک ایمرجنسی سٹوڈیو قائم ہے اور اُمید ہے کہ رات تک نشریات اس سٹوڈیو سے شروع کر دی جائیں گی۔
آتشزدگی کے دوران ریڈیو پاکستان کے عملے کو جلتی ہوئی عمارت سے سامان نکالتا دیکھا گیا، کوئی یہاں سے کتابیں نکال رہا تھا تو کسی کو آڈیو کیسٹوں کے لیے پریشان دیکھا گیا۔ ریڈیو پاکستان کے ڈیوٹی آفیسر نے بتایا کہ عمارت کی میوزک لائبریری اور ریکارڈ روم محفوظ ہے تاہم 14 سٹوڈیو جل گئے۔ ریڈیو پاکستان سے چونتیس سال چار ماہ تک منسلک رہنے کے بعد بطور سٹیشن ڈائریکٹر ریٹائر ہونے والے نثار میمن نے آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں پوچھنے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا تو گھر ہی جل گیا، کوئی کیسے اپنے گھر کے جلنے کا تخمینہ لگا سکتا ہے، پاکستان میں کراچی واحد سٹیشن تھا جہاں ایک چھت کے نیچے اتنی بڑی تعداد میں سٹوڈیو قائم تھے، اس جگہ نئے اور پرانے سامان کا حسین امتزاج تھا، پاکستان میں ریڈیو کے آغاز کے وقت کے قیمتی پیانو بھی جل گئے اور جدید مائیکروفون، لنک ٹرانسمیٹر اور ٹیپ بھی تباہ ہوگئے۔‘ آتشزدگی کی اطلاع پر نائب سٹی ناظمہ نسرین جلیل بھی موقع پر پہنچ گئیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اس تاریخی عمارت میں ہونے والی آتشزدگی کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ | اسی بارے میں شِپنگ کارپوریشن میں آتشزدگی19 August, 2007 | پاکستان قومی اسمبلی کی عمارت میں آگ26 June, 2007 | پاکستان راولپنڈی: ہسپتال میں آتشزدگی03 May, 2007 | پاکستان شپنگ کارپوریشن کی عمارت میں آگ18 February, 2007 | پاکستان کراچی: آتشزدگی سےنو افراد ہلاک07 January, 2006 | پاکستان بس آتشزدگی، تحقیقات شروع12 December, 2005 | پاکستان بس آتشزدگی، 40 باراتی ہلاک11 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||