بینظیر بھٹو سندھ کے دورے پر روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو سنیچر کی صبح انتہائی سخت حفاطتی انتظامات میں کراچی سے بذریعہ جہاز اپنے آبائی شہر لاڑکانہ کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر خودکش حملوں کے بعد انہوں نے اپنے سندھ کے دورے کو مؤخر کر دیا تھا۔ سنیچر کو ان کی لاڑکانہ روانگی کا پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا تاہم ان کی وطن آمد کے بعد سے اندرون سندھ اور خاص طور پر لاڑکانہ میں ان کے حامی اور پارٹی کارکن ان کا شدت سے انتظار کر رہے تھے اور ان کے استقبال کی تیاریاں جاری تھیں۔ بین الاقومی خبر رساں اداروں کے مطابق سنیچر کی صبح انتہائی سخت سکیورٹی میں کلفٹن میں اپنی رہائش گاہ سے کراچی کے ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوئیں۔ ان کی گاڑیوں کا قافلہ جو انتہائی تیز رفتاری سے ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوا اس میں ایک درجن سے زیادہ پولیس کی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر ان کے راستے پر رینجرز اور پولیس کی بھارتی نفری تعینات تھی اور ایئر پورٹ جانے والے راستوں پر ناکہ بندی بھی کی گئی تھی۔ | اسی بارے میں غیرملکی ماہرین بلائے جائیں: بینظیر26 October, 2007 | پاکستان ’غیر ملکی ماہرین سے اجتناب کیوں‘26 October, 2007 | پاکستان تحقیقات: غیرملکی ماہرین پر تنازعہ26 October, 2007 | پاکستان بینظیر حملہ، مشتبہ افراد کی تصاویر26 October, 2007 | پاکستان لاڑکانہ: وزیراعظم جیسی سکیورٹی26 October, 2007 | پاکستان ’ہرجانہ ادا کریں اور معافی مانگیں‘26 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||