بینظیر کی والد کے مزار پر حاضری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے اندرونِ سندھ کے دورے کے دوران گڑھی خدا بخش میں اپنے والد اور پاکستان نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر حاضری دی ہے۔ بینظیر آٹھ برس کے وقفے کے بعدگڑھی خدا بخش میں اپنے آبائی قبرستان آئیں جہاں انہوں نے اپنے والد اور بھائیوں کی قبروں پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ بینظیر بھٹو گڑھی خدا بخش سے لاڑکانہ جائیں گی۔ اس سے قبل دورے کے پہلے مرحلے میں وہ سنیچر کی صبح نو بجکر پندرہ منٹ پر کراچی سے بذریعہ جہاز سکھر ہوائی اڈے پر پہنچیں جہاں پارٹی کارکنان نے بڑی تعداد میں ان کا خیرمقدم کیا اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر کے استقبالیہ جلوس پر خودکش حملوں کے بعد انہوں نے اپنے سندھ کے دورے کو مؤخر کر دیا تھا اور سنیچر کو ان کی لاڑکانہ روانگی کا بھی پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد کے بعد سے اندرون سندھ اور خاص طور پر لاڑکانہ میں ان کے حامی اور پارٹی کارکن ان کا شدت سے انتظار کر رہے تھے اور ان کے استقبال کی تیاریاں جاری تھیں۔ گڑھی خدا بخش بھٹو میں بینظیر کے آمد کے موقع پر ’جانثاران بینظیر‘ بڑی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے سکیورٹی کے انتظامات سنبھالے ہوئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے مطابق سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سےگڑھی خدا بخش بھٹو میں کوئی استقبالیہ منعقد نہیں کیا جا رہا جبکہ وہاں سے بینظیر نوڈیرو ہاؤس جائیں گی جہاں ایک استقبالیہ کا انتظام کیا گیا ہے۔ نوڈیرو ہاؤس بینظیر بھٹو کی سوتیلی والدہ امیر بیگم کے زیراستعمال رہا جو انہوں نے بینظیر مرتضیٰ اختلافات کے بعد بینظیر کو تحفے میں دے دیا۔ نوڈیرو ہاؤس کی سکیورٹی اتنی سخت کر دی گئی ہے کہ بنگلے کے پرانے ملازمین کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ سکیورٹی انتظامات آصف زرداری کی جانب سے تعینات کردہ محافظوں کے ذمہ ہیں۔ نوڈیرو کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھٹو کے بنگلے پر اتنی سخت سکیورٹی انہوں نے پہلی مرتبہ دیکھی ہے ۔’پیپلز ہاری کمیٹی نوڈیرو‘ کے سابق رہنماء جمال داؤد پوٹو کا کہنا تھا کہ انہوں بینظیر بھٹو کے دوران اقتدار بھی شہر میں اتنی سخت سکیورٹی نہیں دیکھی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی دیکھا ہے مگر شہر میں سکیننگ مشینییں اور بلٹ پروف گاڑیاں پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں ۔ بین الاقومی خبر رساں اداروں کے مطابق بینظیر سنیچر کی صبح انتہائی سخت سکیورٹی میں کلفٹن میں اپنی رہائش گاہ سے کراچی کے ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوئیں۔ ان کی گاڑیوں کا قافلہ جو انتہائی تیز رفتاری سے ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوا اس میں ایک درجن سے زیادہ پولیس کی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔اس موقع پر ان کے راستے پر رینجرز اور پولیس کی بھارتی نفری تعینات تھی اور ایئر پورٹ جانے والے راستوں پر ناکہ بندی بھی کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں غیرملکی ماہرین بلائے جائیں: بینظیر26 October, 2007 | پاکستان ’غیر ملکی ماہرین سے اجتناب کیوں‘26 October, 2007 | پاکستان تحقیقات: غیرملکی ماہرین پر تنازعہ26 October, 2007 | پاکستان بینظیر حملہ، مشتبہ افراد کی تصاویر26 October, 2007 | پاکستان لاڑکانہ: وزیراعظم جیسی سکیورٹی26 October, 2007 | پاکستان ’ہرجانہ ادا کریں اور معافی مانگیں‘26 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||