BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 October, 2007, 08:33 GMT 13:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر آٹھ برس بعد آبائی گھر میں

بینظیر نے استقبالیہ جلوس پر بم حملوں کے بعد دورۂ سندھ مؤخر کر دیا تھا

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ صدر کے قومی اسمبلی توڑنے کے صوابدیدی اختیارات کو ختم کرنے پر حکومت اور پیپلز پارٹی میں سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے۔

بینظیر بھٹو نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ مفاہمتی آرڈینس کو رد نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی ایسی اطلاع نہیں ہے کہ سپریم کورٹ مفاہمتی آرڈینس کو رد کر دے گی۔

آٹھ سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پہلی بار بار نوڈیرو پہنچنے پر بینظیر بھٹو نے اپنی رہائش گاہ پر مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اور حکومت کےدرمیان اٹھاون ٹو بی کی شق پر کوئی اتفاق نہیں ہوسکا ہے ۔

بینظیر بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بارے میں اعتماد میں لے لیا ہے۔

بینظیر بھٹو نے ناظمین کے اختیارات میں کمی کے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے ناظمین کے اختیارات میں کمی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ عوام سے ملتی رہیں گی انہوں نےصرف اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے ۔

بینظیر بھٹو اندرونِ سندھ کے دورے کے دوران گڑھی خدا بخش میں اپنے والد کے مزار پر حاضری دینے کے بعد جب بلٹ پروف گاڑی میں نوڈیرو پہنچیں تو پارٹی کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

بینظیر آٹھ برس کے وقفے کے بعدگڑھی خدا بخش میں اپنے آبائی قبرستان آئیں جہاں انہوں نے اپنے والد اور بھائیوں کی قبروں پر پھول چڑھائے اور فاتحہ و قرآن خوانی کی۔

قبر پر حاضری کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ’میں یہاں پہنچ کر جذباتی محسوس کر رہی ہوں۔ میں یہاں کئی برس بعد آئی ہوں اور پاکستان میں ہوتی تھی تو ہر برس عید پر آنا ہوتا تھا‘۔

سکھر ایئرپورٹ سے لاڑکانہ جاتے وقت بینظیر کا استقبال
گڑھی خدا بخش میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ان سے بارہا کہا جا رہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تاہم یہ باتیں انہیں عوام سے دور نہیں رکھ سکتیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ آج اپنے عوام کے درمیان ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بینظیر نے کہا کہ ’چودھریوں کا اقتدار ختم ہونے والا ہے ان کی بات چھوڑ دیں‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو خود کش حملے روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں اور سکیورٹی کی ضرورت صرف پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام سیاسی رہنماؤں کو ہے۔

اس سے قبل بینظیر بلٹ پروف گاڑی میں سوار سکھر سے گڑھی خدا بخش پہنچیں تو پیپلزپارٹی کے چار ہزار کے قریب کارکنوں نے جئے بھٹو کے نعروں سے ان کا خیر مقدم کیا۔ تاہم بینظیر نے موقع پر موجود کارکنوں سے خطاب نہیں کیا۔بینظیر کے ہمراہ اس موقع پر ناہید خان، قائم علی شاہ اور نثار کھوڑو بھی موجود تھے۔

گڑھی خدا بخش بھٹو میں بینظیر کے آمد کے موقع پر ’جانثاران بینظیر‘ بڑی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے سکیورٹی کے انتظامات سنبھالے ہوئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے مطابق سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سےگڑھی خدا بخش بھٹو میں کوئی استقبالیہ منعقد نہیں کیا جا رہا جبکہ وہاں سے بینظیر نوڈیرو ہاؤس جائیں گی جہاں ایک استقبالیہ کا انتظام کیا گیا ہے۔

بینظیر دورے کے پہلے مرحلے میں سنیچر کی صبح کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز سکھر ہوائی اڈے پر پہنچی تھیں جہاں پارٹی کارکنان نے بڑی تعداد میں ان کا خیرمقدم کیا اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔

News image
 بینظیر بھٹو کے دور اقتدار بھی شہر میں اتنی سخت سکیورٹی نہیں دیکھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی دیکھا ہے مگر شہر میں سکیننگ مشینییں اور بلٹ پروف گاڑیاں پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں ۔
جمال داؤد پوٹو، نوڈیرو
اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر کے استقبالیہ جلوس پر خودکش حملوں کے بعد انہوں نے اپنے سندھ کے دورے کو مؤخر کر دیا تھا اور سنیچر کو ان کی لاڑکانہ روانگی کا بھی پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔تاہم بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد کے بعد سے اندرون سندھ اور خاص طور پر لاڑکانہ میں ان کے حامی اور پارٹی کارکن ان کا شدت سے انتظار کر رہے تھے اور ان کے استقبال کی تیاریاں جاری تھیں۔

ادھر نوڈیرو میں بینظیر کے آمد کے موقع پر سکیورٹی اتنی سخت کر دی گئی ہے کہ بنگلے کے پرانے ملازمین کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور سکیورٹی انتظامات آصف زرداری کی جانب سے تعینات کردہ محافظوں کے ذمہ ہیں۔

نوڈیرو کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھٹو کے بنگلے پر اتنی سخت سکیورٹی انہوں نے پہلی مرتبہ دیکھی ہے ۔’پیپلز ہاری کمیٹی نوڈیرو‘ کے سابق رہنماء جمال داؤد پوٹو کا کہنا تھا کہ انہوں بینظیر بھٹو کے دوران اقتدار بھی شہر میں اتنی سخت سکیورٹی نہیں دیکھی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی دیکھا ہے مگر شہر میں سکیننگ مشینییں اور بلٹ پروف گاڑیاں پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں ۔

بین الاقومی خبر رساں اداروں کے مطابق بینظیر سنیچر کی صبح انتہائی سخت سکیورٹی میں کلفٹن میں اپنی رہائش گاہ سے کراچی کے ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوئیں۔ ان کی گاڑیوں کا قافلہ جو انتہائی تیز رفتاری سے ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوا اس میں ایک درجن سے زیادہ پولیس کی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔اس موقع پر ان کے راستے پر رینجرز اور پولیس کی بھارتی نفری تعینات تھی اور ایئر پورٹ جانے والے راستوں پر ناکہ بندی بھی کی گئی تھی۔

بے نظیر کی آمد
استقبالیہ پوسٹروں اور بینروں کی بھرمار
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
ہزارہا لوگ منتظر
بینظیر کا دبئی کراچی سفر اور استقبال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد