BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 22:22 GMT 03:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کے لیے درّاب پٹیل ایوارڈ

پاکستانی وکلاء
’امید ہے کہ وکلاء اپنی جدوجہد مقاصد کے حصول تک جاری رکھیں گے‘
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے ملک کی وکلاء برادری کو عدلیہ کی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے کوششوں پر جسٹس دراب پٹیل ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔

کمیشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر نے اس بات کا اعلان منگل کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں کیا جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک ان کے ہمراہ تھے۔

جسٹس دراب پٹیل ایوارڈ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ہے جو پاکستان میں حقوق انسانی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس دراب پٹیل مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں شروع کیا گیا تھا۔

اقبال حیدر نے بتایا کہ کمیشن نے یہ فیصلہ ملک کے وکیلوں کی اس تحریک کے اعتراف کے طور پر کیا ہے جو نو مارچ کو چیف جسٹس کی برطرفی کے بعد شروع ہوئی تھی جس کے دوران ان کے بقول ملک بھر کے وکلاء نے عدلیہ کی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت اور عوام کی حکومت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی اور چیف جسٹس کی بحالی کی صورت میں پہلی کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وکلاء اپنی جدوجہد مقاصد کے حصول تک جاری رکھیں گے۔ اقبال حیدر نے بتایا کہ وکلاء برادری کی جانب سے یہ ایوارڈ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک وصول کریں گے اور ایوارڈ کی تقریب آئندہ سال مارچ یا اپریل میں ہونے والے کمیشن کے سالانہ جنرل باڈی اجلاس کے دوران منعقد کی جائے گی۔

 کمیشن نے یہ فیصلہ ملک کے وکیلوں کی اس تحریک کے اعتراف کے طور پر کیا ہے جو نو مارچ کو چیف جسٹس کی برطرفی کے بعد شروع ہوئی تھی جس کے دوران ان کے بقول ملک بھر کے وکلاء نے عدلیہ کی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت اور عوام کی حکومت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی اور چیف جسٹس کی بحالی کی صورت میں پہلی کامیابی حاصل کی۔
اقبال حیدر

اس موقع پر منیر اے ملک نے کہا کہ وکلاء برادری کا جسٹس دراب پٹیل اوارڈ کے لیے انتخاب کسی اعزاز سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ایسے جج کے نام پر ایوارڈ جو ہمارے لیے مشعل راہ تھے بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ دراصل سول سوسائٹی کا ایوارڈ ہے، وکلاء کا ایوارڈ ہے، صحافیوں کا ایوارڈ ہے، میں ان سب کی طرف سے اسے قبول کرتا ہوں‘۔

منیر اے ملک نے کہا کہ وکلاء نے اپنی تحریک ختم نہیں کی ہے اور وہ اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک پاکستان میں قانون اور آئین کی مکمل بالادستی اور جمہوریت مکمل طور پر بحال نہیں ہوجاتی اور مسلح افواج کی ملکی سیاست میں مداخلت مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس دراب پٹیل ایوارڈ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کو دیا گیا تھا جو منیر اے ملک کی طرح صدارتی ریفرنس کے خلاف چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری کے وکیل تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد