BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 21:31 GMT 02:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سادہ کپڑوں میں پولیس غیرقانونی‘

عدالت نے وقوعہ کے روز زخمی ہونے والوں کے طبی سرٹیفکیٹ طلب کر لیے
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہد ری نے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ انتیس ستمبر کو الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں اور وکلاء پر تشدد کے مرتکب افراد کے خلاف ہونے والی کارروائی کا مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو عدالت حکام کے خلاف کارروائی کرے گی۔

منگل کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر الیکشن کمشن کے باہر صحافیوں اور وکلاء پر ہونے والے تشدد کے واقعہ کا از خود نوٹس لینے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل غیر قانونی ہے انہوں نے کہا کہ اگر کسی ناخوشگوار صورتحال کے دوران کوئی شخص قتل ہو جائے تو پھر اُس کے ذمہ داروں کو کیسے تلاش کیا جائے گا۔

عدالت کی جانب سے مقدمے میں معاونت کے لیے طلب کیے گئے بیرسٹر خالد انور نے انتظامیہ، پولیس اور صحافیوں کے فرائض کے حوالے سے آئینی اور قانونی تحفظ کے علاوہ ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے طریقہ کار اور پولیس رویے کی بھی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو عوام کی خدمت کے لیے ہونا چاہیے اور انتظامیہ اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو سیاسی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔

انتیس ستمبر کو الیکشن کمیشن کے باہر پولیس تشدد کا ایک منظر

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس واقعہ کے نوٹس کے بعد حکومت نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی مروت علی شاہ، ایس ایس پی ڈاکٹر محمد نعیم اور ڈپٹی کمشنر چوہد ری محمد علی کو معطل کردیا تھا۔

چیف جسٹس کے استفسار پر معطل ایس ایس پی ڈاکٹر نعیم نے بتایا کہ وقوعہ کے روز سات سو کے قریب سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکار موجود تھے اور یہ تمام کانسٹیبل ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ ان زیر تربیت پولیس کانسٹیبلان کا سروس ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پولی کلینک اور پمز ہسپتال کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ کی عدم موجودگی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس مقدمے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ مذکورہ افراد ائندہ سماعت پر عدالت میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں ورنہ اُن کے خلاف کارروائی ہوگی۔

عدالت نے پولی کلینک اور پمز ہسپتال کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ آئندہ سماعت سے قبل وقوعہ کے روز زخمی ہونے والے وکلاء، صحافیوں ، سول سوسائٹی اور پولیس اہلکاروں کے میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کریں۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت اکتیس اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں
صحافیوں کا ملک گیر احتجاج
30 September, 2007 | پاکستان
انتخابی عمل کا پرتشدد آغاز
29 September, 2007 | پاکستان
چھ امیدواروں کے کاغذات منظور
29 September, 2007 | پاکستان
وکلاء کا ملک گیر یوم سیاہ
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد