وکلاء کا احتجاج، عدالتی بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے مختلف شہروں میں وکلاء نے سنیچر کو وکلاء اور صحافیوں پر ہونے والے مبینہ تشددکےخلاف احتجاج کیا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی ملک کے دیگر شہروں کی طرح وکلاء نے احتجاج اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے جائنٹ سیکریٹری شہباز راجپوت کے مطابق ضلع کچہری میں راولپنڈی پنڈی بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بعد میں وکلاء نے ایک ریلی نکالی اور ایک گھنٹے تک کچہری چوک پر ٹریفک کو بلاک کیے رکھا۔ اس کے بعد وکلاء صحافیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پریس کلب چلے گئے۔ صوبہ سرحد کے ہزارہ ڈویژن میں وکلاء نے مکمل ہرتال کی جس کے نتیجے میں کوئی ہزار سے زیادہ مقدمات کی سماعت نہیں ہوسکی۔ وکلاء سنیچر کے روز اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے وکلاء اور صحافیوں پر ہونے والے مبینہ تشدد کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ایبٹ آباد سے علی احد خان کے مطابق ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہریپور میں وکلاء نے جلسے کئے جن سے انکے رہنماؤں نے خطاب کیا اور انتظامیہ کے رویئے کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں اور جلوس نکالے گئے۔ ایبٹ آباد بار ایسوسی ایشن نےاس موقع پر ایک قرارداد منظور کی جس میں صدر کے عہدے کے لیے جنرل مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے پر الیکشن کمیشن کی مذمت کی گئی ہے اور ایبٹ آباد ہائی کورٹ اور دسٹرکٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن میں چیف الیکش کمشنر کے داخلے پر تاحیات پابندی لگانے کے لیے کہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ہزارہ ڈویژن پانچ اضلاع پر مشتمل ہے جن میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، بٹ گرام اور کوہستان شامل ہیں۔ ان اضلاع میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اراکین کی مجموعی تعداد چھ سو سے زیادہ ہے اور اتنے ہی ضلعی بارایسو سی ایشن کے اراکین ہیں۔ عدالتی ذریعوں کے مطابق ہزارہ ڈویژن کی عدالتوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زیادہ مقدمات روزانہ زیر سماعت آتے ہیں۔ لیکن مکمل ہڑتال کی وجہ سے آج ان مقدمات کی سماعت نہیں ہوسکی۔ بلوچستان بلوچستان میں ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام شہروں میں عدالتوں کا بائکاٹ کیا گیا اور وکیلوں نے حکومتی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کوئٹہ میں ضلع کچہری سے ریلی نکالی گئی جو منان چوک سے جناح روڈ ریگل چوک سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب پہنچی۔ وکیلوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے ۔ باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ موجودہ فوجی حکمرانوں نے بندوقوں کے منہ اپنے ہی شہریوں کی طرف موڑ دیے ہیں اور اس مقصد صرف اور صرف اپنے اقتدار کو طول دینا ہے لیکن اب عوام جاگ چکے ہیں اور ایسے ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہوں گے۔ | اسی بارے میں صحافیوں پر تشدد کا ازخود نوٹس30 September, 2007 | پاکستان تشدد: صحافیوں کا ملک گیر احتجاج30 September, 2007 | پاکستان انتظامیہ کو معطل کرنے کا حکم01 October, 2007 | پاکستان چھ وکلاء پر دہشت گردی کا مقدمہ30 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||