ڈیرہ بگٹی: پولیس مقابلہ، تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں پولیس نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے ان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا، جہاں فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت اور دو کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ مقامی پولیس حکام کے مطابق شہر میں چند روز قبل ہونے والے بم دھماکے کے بعد مشکوک افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اس مہم کے دوران کوردان کے علاقے میں چھاپہ مارا تو ’فراریوں‘ کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا۔ کارروائی میں تین مشتبہ افراد ہلاک اور دو گرفتار ہوئے جبکہ تین کلاشنکوف اور ان کے کئی راؤنڈ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بم دھماکے کے بعد سے اب تک گیارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں حسنو بگٹی بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق حسنو بگٹی ایف آئی آر میں نامزد ہیں۔ تین روز قبل ڈیرہ بگٹی کے بس اڈے پر دھماکے میں سرکاری ذرائع کہ مطابق پانچ افراد جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری خود کو بلوچ ریپبلکن آرمی نامی زیر زمین تنظیم کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر قبول کی تھی۔ |
اسی بارے میں ڈیرہ بگٹی: بم دھماکہ، چار ہلاک20 October, 2007 | پاکستان بگٹیوں کے خلاف کارروائی، دو ہلاک03 October, 2007 | پاکستان بگٹی برسی، ہڑتال، مظاہرے، گرفتاریاں26 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||