علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | پرویز الہی نے ہنگامی پریس کانفرنس کی |
وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے کہا کہ صدر مشرف سے بے وفائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ انہیں حکمران مسلم لیگ نے ووٹ دیکر صدر منتخب کرایا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے ان کی مخالفت کی تھی۔ چودھری پرویز الہی نے کہا کہ بے نظیر کے استقبال کے لیے آنے والوں کی تعداد قومی اسمبلی کے ایک یا دو حلقوں کے لوگوں سے زیادہ نہیں رہی۔ پنجاب کے وزیر اعلی نے خیال ظاہر کیا کہ پیپلز پارٹی میں بس اتنے ہی لوگ رہ گئے ہیں جتنے ان کا استقبال کرنے آئے تھے۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی دوغلی پالیسی عوام کے سامنے آچکی ہے، ایک جانب وہ صدر کی ذات پر سنگین الزامات لگاتی ہے اور دوسری جانب انہیں سے معافی کے لیے منتیں کرتی ہے۔ چودھری پرویز الہی نے بےنظیر پر کرپشن کے مقدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے مقدمات کا سامنا کرنے کی بجائے یورپ اور دبئی میں عیش و عشرت کی زندگی گزاری اور اب ڈھائی سال تک مسلسل معافی مانگنے کے بعد جو آرڈیننس جاری کرایا تھا وہ اب عدالتوں میں لٹک گیا ہے۔ چودھری پرویز الہی نے کہا کہ اگر وہ سچی ہوتیں تو کرپشن معاف کروانے کی بجائے عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرتیں۔ جب ان سے کہا گیا یہ مفاہمتی آرڈیننس تو کابینہ اور صدر مشرف کے حکم پر جاری ہوا ہے، صدر مشرف بے نظیر کا ساتھ دے رہے ہیں، کیا مسلم لیگ اب صدر مشرف کو چھوڑ دے گی؟ تو پرویز الہی نے اس بارے میں زیادہ بات کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ اس معاملہ میں صدر کے عہدے کو بیچ میں نہ لایا جائے وزیر اعلی پنجاب نے کہا ہے کہ جب بے نظیر بھٹو پنجاب آنے کا فیصلہ کریں گی تب ہی وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں فری ہینڈ دینا ہے یانہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر شوہر آصف علی زرداری کے بارے میں سنہ دوہزار پانچ میں ان کی پالیسی واضح تھی اور اب بے نظیر کے بارے میں بھی ان کی پالیسی واضح ہوگی۔ وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ عام انتخابات میں حکمران مسلم لیگ اور اتحادی پارٹیاں چاروں صوبوں میں بے نظیر کا مقابلہ کریں گی۔ |