’اغواء برائے تاوان منافع بخش ترین کاروبار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں اس سال تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ کراچی میں ڈیڑھ ماہ قبل ’محافظ‘ کے نام سے نئی پولیس فورس متعارف کروائی گئی ہے تاہم اس کے باوجود جرائم کا گراف نیچے نہیں جا سکا ہے۔ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ کا اعتراف کرتے ہوئے ڈی آئی جی(تفتیش) منظور مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ سالِ رواں میں اکیاون وارداتیں ہوئی ہیں جن میں سے پچاس اغواء کنندگان اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں جبکہ گذشتہ سال اغواء برائے تاوان کی کل انتیس وارداتیں ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ افراد تاوان کی رقم دینے کے بعد آئے ہیں اور کچھ کو پولیس نے بازیاب کرایا ہے البتہ پولیس چھتیس وارداتوں میں ملزمان کوگرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت رضوان نامی ایک شخص اغواء کاروں کی تحویل میں ہے اور پولیس اسے بازیاب کرانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ان کے بقول محافظ فورس کے متعارف ہونے کے بعد اب جرائم میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے اور صورتحال مزید بہتر ہوگی۔
پولیس میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کی تحقیقات کے لیے قائم سپیشل یونٹ کے سربراہ ایس پی فاروق اعوان نے بتایا کہ ’اغواء برائے تاوان سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اس میں دو قسم کے لوگ ملوث ہیں، ایک وہ جو پروفیشنل ہیں اور گینگ کی صورت میں کام کرتے ہیں جبکہ وہ لوگ بھی ہیں جو پیسے کی لالچ میں یہ جرم کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اکیاون میں سے اکیس مقدمات ایسے ہیں جن میں پروفیشنل گینگ ملوث نہیں ہیں بلکہ ملزمان نے تاوان کی رقم کےلالچ میں یہ جرم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چار پانچ سال پہلے بھی ان وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پانچ سال قبل انتخابی سال تھا اور اب دوبارہ عام اتنخابات قریب ہیں تو کیا اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ایسے وقت میں اضافہ ہوجاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ان وارداتوں کا عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کا اگر الیکشن یا سیلیکشن سے تعلق ہوتا تو پھر وہ لوگ نشانہ ہوتے جو بھاری رقم دے سکتے‘۔ ادھر سی پی ایل سی کے ڈپٹی چیف حنیف موسٰی نے پولیس کی کارکردگی اور محافظ فورس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ کپڑے یا نام تبدیل کرنے سے پولیس کی کارکردگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے پہلے بھی ایگل اسکواڈ اور مددگار ون فائیو بنائی گئی تھی جس کے بعد بھی جرائم میں کمی نہیں لائی جا سکی‘۔ انہوں نے کہا کہ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ہوں یا گاڑیوں کی چوری جب تک پولیس کی ترجیحات جرائم پر قابو پانا نہیں ہونگی اس وقت تک بہتری نہیں آ سکتی۔ سٹیزن پولیس لیاژن کمیٹی کے تیارکردہ ریکارڈ کے مطابق ماہ ستمبر میں چھینی جانے اور چوری ہونے والی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی تعداد پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں ایک ماہ کے دوران سب سے زیادہ رہی اور شہری ساڑھے پانچ سو کاروں اور بارہ سو موٹرسائیکلوں سے محروم ہوگئے جبکہ ریکارڈ کے مطابق رواں سال ستمبر تک بانوے ہزار افراد اپنے موبائل فونوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سی پی ایل سی کے سربراہ شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ جرائم کی وجوہات دراصل معاشی صورتحال، غربت اور بے روزگاری ہیں اور دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ تر دیہی علاقوں کے لوگ اغواء برائے تاوان، گاڑیوں کی چوری اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ | اسی بارے میں سی پی ایل سی کے مستقبل پر اٹھتے سوالات17 April, 2006 | پاکستان سی پی ایل سی کیسے فعال ہو؟17 April, 2006 | پاکستان کراچی: پولیس مقابلہ، چار ہلاک07 April, 2007 | پاکستان ’کراچی کو خطرہ ہتھیاربندوں سے‘29 May, 2007 | پاکستان قادیانی شخص کا اغوا اور رہائی16 June, 2007 | پاکستان پولیس مقابلے میں پانچ ہلاک22 August, 2007 | پاکستان بدین: صحافی تیرہ دنوں سے یرغمال06 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||