BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 October, 2007, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں پاکستانی نژاد امریکی ہلاک

فائل فوٹو
برائن 2005 میں عراق میں ایک بم حملے میں ہلاک ہوگئے تھے
امریکی فوج کے ایک سپاہی برائن سی کریم کی ہلاکت کی خبر دو سال بعد پاکستان میں ان کے والد اور سندھی ادیب مشتاق شورو کے گھر پہنچی ہے۔

برائن کریم کے چچا شوکت شورو کے مطابق برائن کے والد مشتاق کو ابھی تک بیٹے کی ہلاکت کا علم نہیں ہے کیونکہ وہ تھائی لینڈ چھٹیوں پرگئے ہوئے ہیں۔

بائیس سالہ برائن سی کریم امریکی فوج کی دوئم بٹالین کی تھرڈ بریگیڈ کے سپاہی تھے جو اپنے تین ساتھیوں سمیت تیرہ دسمبر دو ہزار پانچ میں عراق میں ایک بم حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ساحلی ضلع ٹھٹھہ میں برائن سی کریم کی ہلاکت کی خبر پہنچنے کے بعد ان کے رشتہ داروں سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ان کے والد مشتاق شورو کو فی الوقت اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

برائن ادیب مشتاق شورو کے بڑے بیٹے ہیں۔ مشتاق کے بھائی شوکت شورو کا کہنا تھا کہ مشتاق اسی کی دہائی میں امریکا چلا گئے تھے جہاں انہوں نے شادی کرلی بعد میں خاندانی الجھنوں اور امریکی بیوی سے طلاق کے بعد وہ واپس پاکستان پہنچے تھے۔

شوکت شورو یونیورسٹی آف سندہ جامشورو کے ثقافتی ادارے سندھیالوجی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ ان کے بھائی مشتاق شورو لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس کے انتظامی افسر ہیں۔ دونوں بھائی لکھاری ہیں اور ان کی لکھی کہانیاں سندھ میں بہت مقبول رہی ہیں۔

برائن سی کریم کے بارے میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ ’ان کا شمار ہائی سکول کے ذہین طالبعلموں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی کلاس فیلو رشل سے جب شادی کرلی تو انہیں ’کیوٹیسٹ کپل آف ہائی سکول‘ کا اعزاز دیا گیا۔ برائن نے سوگواروں میں بیوی رشل اور دو سالہ بچی جینسا چھوڑے ہیں‘۔

شوکت شورو کا کہنا تھا کہ ’امریکہ سے واپسی اور طلاق کے بعد مشتاق کا اپنے بیٹے اور سابقہ بیوی سے رابطہ منقطع تھا۔ عراق میں برائن کی ہلاکت کے بعد انہوں نے بروقت رابطے کی مسلسل کوششیں کیں مگر ہمارے نمبرز انہیں نہیں مل پا رہے تھے کیونکہ مشتاق نے اپنے رابطے کے سارے نمبر تبدیل کردیے تھے‘۔

برائن کریم کے چچا شوکت شورو کے مطابق ’کئی برسوں سے برائن کریم اور ان کے بھائی کا آپس میں رابطہ نہیں رہا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے دو سال کی کوششوں کے بعد خود رابطہ کر کے برائن کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے ہم ان کے شکرگزار ہیں اور بھائی کے واپس آنے کے بعد امریکا جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کریں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد