عراق میں پاکستانی نژاد امریکی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے ایک سپاہی برائن سی کریم کی ہلاکت کی خبر دو سال بعد پاکستان میں ان کے والد اور سندھی ادیب مشتاق شورو کے گھر پہنچی ہے۔ برائن کریم کے چچا شوکت شورو کے مطابق برائن کے والد مشتاق کو ابھی تک بیٹے کی ہلاکت کا علم نہیں ہے کیونکہ وہ تھائی لینڈ چھٹیوں پرگئے ہوئے ہیں۔ بائیس سالہ برائن سی کریم امریکی فوج کی دوئم بٹالین کی تھرڈ بریگیڈ کے سپاہی تھے جو اپنے تین ساتھیوں سمیت تیرہ دسمبر دو ہزار پانچ میں عراق میں ایک بم حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کے ساحلی ضلع ٹھٹھہ میں برائن سی کریم کی ہلاکت کی خبر پہنچنے کے بعد ان کے رشتہ داروں سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ان کے والد مشتاق شورو کو فی الوقت اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ برائن ادیب مشتاق شورو کے بڑے بیٹے ہیں۔ مشتاق کے بھائی شوکت شورو کا کہنا تھا کہ مشتاق اسی کی دہائی میں امریکا چلا گئے تھے جہاں انہوں نے شادی کرلی بعد میں خاندانی الجھنوں اور امریکی بیوی سے طلاق کے بعد وہ واپس پاکستان پہنچے تھے۔ شوکت شورو یونیورسٹی آف سندہ جامشورو کے ثقافتی ادارے سندھیالوجی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ ان کے بھائی مشتاق شورو لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس کے انتظامی افسر ہیں۔ دونوں بھائی لکھاری ہیں اور ان کی لکھی کہانیاں سندھ میں بہت مقبول رہی ہیں۔ برائن سی کریم کے بارے میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ ’ان کا شمار ہائی سکول کے ذہین طالبعلموں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی کلاس فیلو رشل سے جب شادی کرلی تو انہیں ’کیوٹیسٹ کپل آف ہائی سکول‘ کا اعزاز دیا گیا۔ برائن نے سوگواروں میں بیوی رشل اور دو سالہ بچی جینسا چھوڑے ہیں‘۔ شوکت شورو کا کہنا تھا کہ ’امریکہ سے واپسی اور طلاق کے بعد مشتاق کا اپنے بیٹے اور سابقہ بیوی سے رابطہ منقطع تھا۔ عراق میں برائن کی ہلاکت کے بعد انہوں نے بروقت رابطے کی مسلسل کوششیں کیں مگر ہمارے نمبرز انہیں نہیں مل پا رہے تھے کیونکہ مشتاق نے اپنے رابطے کے سارے نمبر تبدیل کردیے تھے‘۔ برائن کریم کے چچا شوکت شورو کے مطابق ’کئی برسوں سے برائن کریم اور ان کے بھائی کا آپس میں رابطہ نہیں رہا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے دو سال کی کوششوں کے بعد خود رابطہ کر کے برائن کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے ہم ان کے شکرگزار ہیں اور بھائی کے واپس آنے کے بعد امریکا جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کریں گے‘۔ | اسی بارے میں عراق: چار امریکی فوجی ہلاک 03 August, 2007 | آس پاس دو امریکی ہلاک، چھ عراقی گرفتار18 March, 2006 | آس پاس بغداد: سات امریکی فوجی ہلاک 07 January, 2005 | آس پاس بغداد: سات امریکی فوجی ہلاک 06 January, 2005 | آس پاس ’عراق حملے سے پہلےمبالغہ آرائی‘ 10 February, 2007 | پاکستان ’مغوی صحافی نہیں برطانوی فوجی ہے‘06 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||