’عراق حملے سے پہلےمبالغہ آرائی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی جنگ سے متعلق امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک تحقیقاتی جائزہ میں عندیہ دیا گیا ہے کہ جنگ سے پہلے صدام حسین اور القاعدہ کے درمیان رابطوں کی اطلاعات میں مبالغے سے کام لیا گیا تھا۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ بُش انتظامیہ کے ایک سینئیر عملدار یعنی نائب وزیر دفاع ڈگلس فیتھ نے جو رودادیں پیش کی تھیں ان میں بعض غیر مناسب تھیں۔ مسٹر فیتھ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی تفصیلات پیش کیں جو انٹیلیجنس ایجنسیوں کی عام رائے سے متضاد تھیں۔ مثلاً یہ کہا گیا تھا کہ ستمبر کے حملوں کے لیڈر محمد عطا نے پراگ میں عراق کے خفیہ محکمے کے حکام سے ملاقات کی تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے اور ایف بی آئی دونوں کو اس ملاقات کے بارے میں شبہ تھا اور اب ان ادادروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات کبھی ہوئی ہی نہیں۔ مسٹر فیتھ نے جو دو سال پہلے مستعفی ہوئے تھے کہا ہے کہ ان کو یہ کام دیا گیا تھا کہ وہ ایسی روداد پیش کریں جو سی آئی اے کی پیش کردہ اطلاعات سے مختلف ہوں۔ | اسی بارے میں ’بش نےعراقی مزاحمت کوچُھپایا‘30 September, 2006 | آس پاس ’جوہری اسلحہ کی تیاری کا ثبوت نہیں‘21 November, 2006 | آس پاس ’صومالیہ پرحملے سے کشیدگی بڑھے گی‘09 January, 2007 | آس پاس خلیج میں فوج، دشمنوں کو پیغام03 February, 2007 | آس پاس ’عراق میں خانہ جنگی ہو رہی ہے‘03 February, 2007 | آس پاس ’ایران خطے کے لیے خطرہ ہے‘20 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||