’مغوی صحافی نہیں برطانوی فوجی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے دعوی کیا ہے کہ پیر کو افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں اسلامی ملشیا نے جس شخص کو حراست میں لیا ہے وہ صحافی نہیں بلکہ برطانوی فوجی ہے۔ طالبان کے مطابق اس شخص کے بارے میں فیصلہ تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے منگل کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ گرفتار شخص نے پہلے خود کو صحافی ظاہر کیا تھا لیکن تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ صحافی نہیں بلکہ برطانوی فوجی ہے۔ ترجمان کے بقول وہ شخص دو سالوں سے ہلمند میں برطانوی فوج کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ’برطانوی’ کے ساتھ دو افغان شہری اجمل اور سید آغا بھی گرفتار کیے گئے ہیں جن میں سے ایک کا تعلق کابل جبکہ دوسرے کا ہلمند سے ہے۔ قاری یوسف نے کہا کہ گرفتار شخص نے اپنا نام ’ ڈینی کیل’ بتایا ہے۔ پہلے ان کا کہنا تھا کہ وہ اٹلی کے ایک اخبار ’ لیری کیبلت‘ کے لیے کام کرتا ہے تاہم بعد میں اس نے خود اقرار کیا کہ وہ صحافی نہیں بلکہ برطانوی فوجی ہے جو خفیہ مشن پر علاقے میں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار شخص کچھ عرصہ پشاور میں بھی رہ چکا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ گرفتار شحض کے بارے میں مزید تحقیقات ہورہی ہیں جن کے مکمل ہونے کےبعد فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران طالبان کئی لوگوں کو جاسوسی کے جرم میں قتل کرچکے ہیں۔ | اسی بارے میں طالبان کے خلاف ’بڑی کارروائی‘06 March, 2007 | آس پاس ہلمند: دو برطانوی فوجی ہلاک05 March, 2007 | آس پاس افغان شہریوں کی ہلاکت کی تحقیق05 March, 2007 | آس پاس دوسری بار بمباری، مزید نو ہلاک05 March, 2007 | آس پاس افغانستان: ضلعی پولیس سربراہ اغواء01 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||