محسود کے بھتیجےکو24 سال قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے اغواء کیے جانے والے تین سو کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے اغواء کو ایک مہینہ مکمل ہوگیا ہے اور اس حوالے سے درے محسود قبائل کا مذاکراتی جرگہ بغیر کسی اعلان کے ختم ہوگیا ہے۔ دوسری جانب کمانڈر عبداللہ محسود کے بھتیجے سہیل زیب کو انسداد دہشتگردی کے عدالت نے چوبیس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ جرگے کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے درے محسود قبائل کا جرگہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ حکومت کی جانب سے ان مطالبات پر خاموشی ہے جن سے مقامی طالبان کی جانب سے جرگے نے حکومت کو آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی جرگہ حکومت کی جانب سے ایک اچھے جواب کا منتظر ہے۔ان کے مطابق حوصلہ افزاء جواب کے بعد جرگہ دوبارہ مذاکرات کا عمل شروع کرے گا۔ دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں انسداد دہشتگردی عدالت نے ٹانک سے دو خودکش جیکٹس سمیت دھماکہ خیزمواد رکھنے والے ملزم سہیل زیب کو چوبیس سال قید بامشقت اور پچاس ہزار جرمانے کی سزا سنا دی۔ دہشتگردی عدالت کے جج فیاض اللہ نے سہیل زیب کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید دو سال قید گزارنا ہوگی۔ سہیل زیب کے والد عالم زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ’میرا بیٹا ناسمجھ ہے نامعلوم افراد نے ان کو ٹانک میں ایک سوٹ کیس دیا تھا کہ اس کو فلاں جگہ پہنچاؤ‘۔ عالم زیب کے مطابق ان کو یہ علم نہیں تھا کہ اس میں خودکش جیکٹس اور بارودی مواد موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ’میرے بیٹے کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ وہ اسی دن امتحان کے داخلے کے لیے ٹانک کالج جا رہا تھا۔وہ ٹانک کالج میں فرسٹ ائیر کا طالب علم تھا۔میں اپنے بیٹے کے کیس کے سلسلے میں ہائی کورٹ جاؤں گا‘۔ سہیل زیب کو آٹھ مارچ دو ہزار سات کو ٹانک پولیس نے تھانہ ٹانک کی حدود میں اس وقت گرفتار کیا جب اس کے بیگ سے دو خودکش جیکٹس اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ یاد رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت کا یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کے مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے ان انیس افراد کے رہائی کا مطالبہ کیا ہے جن کو ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان میں عبداللہ محسود کے ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: فوجی قافلوں پر حملے23 September, 2007 | پاکستان وزیرستان: مزید پچیس فوجی رہا21 September, 2007 | پاکستان وزیرستان: اہلکار رہا نہ ہو سکے19 September, 2007 | پاکستان مغویوں کی بازیابی، مزید وقت درکار 08 September, 2007 | پاکستان فوجیوں کی تلاش بے سود03 September, 2007 | پاکستان ’مہمند رائفلز اہلکار ہم نے اغواء کیے‘02 September, 2007 | پاکستان ایک سو سے زائد اہلکار ’اغواء‘30 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||