BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 September, 2007, 08:31 GMT 13:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈووکیٹ خورشید کی ضمانت

ایڈووکیٹ خورشید
تقریباً ستّر پولیس اہلکاروں نے پکڑ کرگاڑی میں ڈال دیا: ایڈووکیٹ خورشید
پشاور کی ایک ماتحت عدالت نے سینیئر وکیل خورشید خان ایڈوکیٹ کو پیر کے روز اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے سرکاری وکیل احمد رضا قصوری کے چہرے پر سیاہ رنگ سپرے کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بارہ گھنٹے بعد ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس طاہر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ خورشید ایڈوکیٹ کو پیر کی شب تقریباً بارہ بجے پشاور میں اپنی رہائش گاہ سےگرفتار کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات دینے سے انکار کردیا۔

خورشید خان ایڈوکیٹ کے وکلاء اشتیاق ایڈوکیٹ اور پیر فدا ایڈوکیٹ نےمنگل کو پشاور کے ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کےجج مفتاح الدین کی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کردی جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے ان کی رہائی کے احکامات جاری کردیئے۔عدالت نے انہیں سات دنوں کے اندر اسلام آباد میں متعلقہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکام صادر کردیا۔

وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ میں ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ رہائی پانے کے بعد خورشید خان ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پیر کی شب تقریباً بارہ بجے وہ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے کہ ان کے گھر کے دروازے پردستک ہوئی۔ان کے بقول باہر آنے پر انہوں نے صوبہ سرحد اور اسلام آباد پولیس کے تقریباً ستّر پولیس اہلکاروں کو موجود پایاجنہوں نے انہیں اسی وقت پکڑ کرگاڑی میں ڈال دیا۔

ان کے مطابق انہیں بارہ گھنٹے کی حراست کے دوران میں تقریباً چار مقامات پر رکھا گیا اورا ن کے چہرے پر کالی چادر ڈال دی گئی تھی۔خورشید ایڈوکیٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں پانی کے علاوہ کھانے کے لیےکچھ نہیں دیا گیا۔

احمد رضا قصوری نےتعزیرات پاکستان کی دفعہ 337 ایل کے تحت مقدمہ درج کرایا ہے

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری وکیل احمد رضا قصوری کے چہرے پر سیاہ سپرے کرنا ان کے ’ منہ کالا تحریک‘ کا آغاز نقطہ آغاز ہے جس کے تحت وہ سول سوسائٹی، سیاسی کارکن اور وکلاء مرکز، صوبہ پنجاب اور سندھ میں ہر اس حکومت یافتہ شخص کا منہ کالا کریں گے جو ذرائع ابلاغ پر ’دروغ گوئی‘ سے کام لیتے ہوئے عدلیہ اور اس کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

اس سے قبل منگل کی صبح ان کی گرفتاری کیخلاف پشاور کی وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے گزرنے والی سڑک کو ہرقسم کے ٹریفک کے لیے بند کردیا۔اس موقع پر درجنوں وکلاء نےصدر جنر ل پرویز مشرف کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی پشاور سے تعلق رکھنے والے سینیئر وکیل خورشید خان ایڈوکیٹ نے پیر کی صبح سپریم کورٹ میں صدر کے دو عہدوں کے خلاف آئینی پٹیشن کی سماعت کے آغاز سے قبل ’احتجاج‘ کرتے ہوئےسرکاری وکیل احمد رضا قصوری کے چہرے پر سیاہ رنگ سپرے کر دیا تھا۔ بعد میں اسلام آباد میں سیکرٹریٹ پولیس نے حکومتی وکیل احمد رضا قصوری کی درخواست پر ان کے کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 337 ایل کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
سیکرٹریٹ سرکل کے ڈی ایس پی گلفام ناصر وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مقدمہ صرف ایک شخص خورشید خان کے خلاف دوج کیا گیا ہے جبکہ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں سینیئر وکلاء اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد پر الزام لگایا تھا کہ ملزم نے یہ اقدام ان کی ایماء پر کیا ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے خورشید ایڈووکیٹ نے کہا تھا کہ اتوار کی شب ایک نجی ٹی وی چینل پر احمد رضا قصوری کی باتوں سے ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا جس کے بعد انہوں نے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

اسی بارے میں
مشرف کے عہدے، سماعت پیر سے
14 September, 2007 | پاکستان
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد